<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-6091542990551693712</id><updated>2011-07-07T18:24:54.963-07:00</updated><title type='text'>Voice of Pakistan</title><subtitle type='html'></subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>Afzaal Khan</name><uri>http://www.blogger.com/profile/17233152306046195053</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='30' height='32' src='http://2.bp.blogspot.com/_Xe-dkT1TmdM/She1e-Vt2TI/AAAAAAAAAAM/7VKFQtO1Yb8/S220/afzaal+.jpg'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>7</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6091542990551693712.post-1847291932871639360</id><published>2009-07-21T23:33:00.000-07:00</published><updated>2009-07-21T23:34:57.445-07:00</updated><title type='text'>آنسو</title><content type='html'>&lt;div align="right"&gt;&lt;strong&gt;&lt;br /&gt;افضال خان&lt;/strong&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;&lt;br /&gt; وہ میرے سامنے کئی بارپہلے بھی روئی تھی ....میںسمجھ جاتاہے کہ اس کے آنسوخوشی کے ہیں، غم کے یاپھرندامت کے ،لیکن آج دوگہرے نیلے سمندروںسے نکلنے والی نہریںاس کے گالوںکی چمکدارزمین میںپڑے خشک ڈمپل بھرتی ہوئی میرے سینے پرآبشارکی طرح گررہی تھیں۔ان آنسوئوںکو کوئی نام دینا میرے لئے ناممکن ہوتاجارہاتھا۔وہ میرے سینے پرسررکھے مسلسل آنسوبہارہی تھی اورمیںنجانے کیوںان آنسوئوںکو کوئی نام دیناچاہتا تھا۔میرے لئے یہ زیادہ اہم نہیںتھاکہ وہ رورہی ہے ،میرے لئے زیادہ اہمیت تواس بات کی تھی کہ کسی کے جذبات کوجانچنے کے میرے سارے تجربات ناکام ہوتے دکھائی دے رہے تھے ۔ ....وہ مسلسل خاموش آنسوبہارہی تھی اوریہ آنسومیرے سینے پرگرنے کی بجائے دل پرگررہے تھے۔ماںجی کہتی ہیں”جوآنسودل پرگرتے ہیںوہ روح کے آئینے کودھوکرشفاف کردیتے ہیں.... یا پھر دل پرایسے زخم لگاتے ہیںکہ یہ زخم سداہرے رہتے ہیں“ .... روح اس کی شفاف ہورہی تھی اوردل میراگھائل ہورہاتھا۔کیونکہ روح کوشفاف کرنے کیلئے اپنے آنسوئوںکاہوناضروری ہوتاہے ۔”سوری“....اس نے سرگوشی کی ،مجھے یوںلگا جیسے سناٹاچھائے جنگل میںکسی درخت سے کوئی پتاگراہو اوراس کی سرسراہٹ جنگل میںہرذی روح نے محسوس کی ہو۔”سوری ....میں وعدہ توڑرہی ہوں“وہ کوئی وعدہ توڑنے کی بات کررہی تھی اورمیرادماغ جواس کی کیفیات کاعنوان تلاش کرنے کیلئے خیالات اورسوچوںکے اندھے اوراندھیرے غارمیںبنے تار عنکبوت میںالجھ کررہ گیاتھایکدم اسے روشنی کی کرن نظر آئی ۔.... کوئی عنوان مل رہاتھا....خاموشی ٹوٹ رہی تھی ۔”سوری میںوعدہ توڑرہی ہوں“خیالات کے گھنے جنگل میںزبان کے درخت سے الفاظ کاصرف ایک پتاگرنے سے میںاس کے لہجے اور کیفیات کوپہچاننے کی پوزیشن میںآگیاتھا،....اس کے لہجے میںندامت نہیںتھی ....معذرت تھی ،مجھے پہلی بارمحسوس ہواکہ ندامت اورمعذرت میںبہت باریک سافرق ہوتاہے لیکن دونوںکیفیات یاجذبے اپنی جگہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔”میںنے جان بوجھ کرنہیںتوڑا....بس ٹوٹ گیا....وعدہ ٹوٹ گیا“اس کے لہجے میںمعصومیت تھی اورجھوٹے آدمی کے لہجے میںمعصومیت ہوہی نہیںسکتی ،وہ سچ کہہ رہی تھی لیکن یہ ایک ایساسچ تھاجس سے میںنظریںچراناچاہتاتھا....&lt;br /&gt;جومجھے نئی منزلوںکامسافر بنانے والاتھا....اورمیںنئی منزلوںکامسافربننے سے ہمیشہ خوفزدہ رہاہوں۔میںسمجھ گیاتھاکہ وہ کون ساوعدہ توڑنے کی بات کررہی ہے لیکن میںانجان بن رہاتھا،انسان بھی بہت عجیب ہوتاہے کہ کبھی کوئی خواہش کرتاہے اورجب خواہش پوری ہونے لگتی ہے تومصلحتوںکی ردااوڑھ لیتاہے ،اورمیںاس وقت مصلحتوںکی ردامیں خود کو لپیٹ رہاتھا ،مجھے یوںلگ رہاتھاکہ جیسے میں بکھر جائوں گا.... اور میںبکھرنانہیںچاہتاتھا....کیونکہ میںجانتا تھاکہ جو وعدہ توڑرہی ہے اسے بکھری ہوئی چیزیں اور لوگ اچھے نہیںلگتے تھے ....”مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے “اس نے باتوںکا سلسلہ دوبارہ شروع کیاتومیںایک بارپھرخیالات کے بھنورسے باہرنکل آیا،وہ کہہ رہی تھی کہ اسے مجھ سے محبت ہوگئی ہے ،کتنی عجیب بات ہے کہ کبھی انسان محبت کوڈھونڈتاہے اورکبھی محبت انسان کوڈھونڈتے ہوئے اس تک پہنچ جاتی ہے ۔ اور محبت مجھ تک پہنچنے کی کوشش کررہی تھی اورمیں دور ہونے کی ۔”میںجانتی ہوںکہ تمہیںاچھانہیںلگاہوگا،.... ہم نے وعدہ کیاتھانا....کہ دوستی کی لکیرکوکبھی پارنہیںکرینگے لیکن انجانے میںمیںاس لیکرکوپارکرآئی ہوں،میں جانتی ہوںکہ تم تعلقات کے درمیان حدودکی لکیریں کھینچتے ہو....میںطویل عرصہ کوشش کرتی رہی ہوںکہ وعدوںکی پاسداری کروں....ایم سوری “مجھے اندازہ نہیںتھاکہ وہ بہت طویل عرصے سے محبت کے جذبات کوخوف کے پنجرے میںقید کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ....اسے ناسمجھ تھی ، اسے معلوم ہی نہیںتھاکہ محبت کوئی پرندہ نہیںہوتاکہ جس کوقید کیاجاسکے ....محبت توایک جذبہ ہے ....اورجذبات کبھی قیدنہیںکئے جاسکتے ۔کوئی بھی قید نہیںکرسکتا....اوروہ توایک کمزوراورمعصوم سی لڑکی تھی ....اس نے اتناعرصہ خودسے جنگ کی یہی بہت تھا،مجھے تویقین ہے کہ وہ اندرسے اس قدرکرچی کرچی ہوچکی ہے کہ خودکوجوڑنے کیلئے اسے آنسوکی ضرورت تھی ،اوروہ مسلسل آنسوبہا رہی تھی ۔”آپ نے سائرہ کواسی بات پرچھوڑاتھاکہ وہ دوستی کی حدودکراس کرنے کی کوشش کررہی تھی ....کیامجھے بھی چھوڑدینگے؟“وہ جانتی تھی کہ میںنے سائرہ کوچھوڑاتھالیکن سائرہ کی بات اورتھی ....وہ یہ بھی جانتی تھی کہ میںاسے نہیںچھوڑسکتا....لیکن پھربھی اسے ڈرتھا ، فصل تیارہوجائے توطوفانوںکاڈردلوںدماغ پرمسلط رہتاہے ،شایداسے محسوس ہورہاتھاکہ اس کی محبت کی فصل تیارہے ....لیکن میںمحبت نہیںکرسکتاتھا، کیونکہ یہ خیال میرے ذہن پرہمیشہ مسلط رہاہے کہ میںمحبت افورڈنہیںکرسکتا....یہ بھی کتنی عجیب بات تھی کہ میںمحبت افورڈنہیںکرسکتاتھا....میںسوچتاتھاکہ جومیںافورڈنہیںکرسکتاتھاکیاو ہ محبت تھی یافطری ضرورت ....جوبھی تھامیںنے ذہن پرکبھی زیادہ زورنہیںدیا۔وہ ایک بات کرتی تھی تومجھے یوںلگتاتھاکہ اس ایک بات نے مجھے اٹھاکرخیالات کے عمیق سمندرمیںپھینک دیاہو....پھرکوئی اگلی بات میرا ہاتھ تھام کرمجھے سمندرسے نکالتی تومیںکچھ دیرکیلئے سکھ کاسانس لیتا....”تم خفاہو....“سکھ کے لمحات ایک بارپھرختم ہورہے تھے ....وہ مجھے پھرسمندرمیںپھینک رہی تھی ۔میںتنگ ہورہاتھا....میںجب تنگ ہونے لگتاہوںتوپھرسب کچھ چھوڑکرکہیںدورنکل جاناچاہتاہوں....اس وقت تومیںبہت دورنکل جاناچاہتاتھا....”مجھے آفس پہنچناہے“میںنے اٹھنے کی کوشش کی تواس نے اپناسرمیرے سینے سے اٹھالیا....اس کی جواب طلب نظروں کونظراندازکرتے ہوئے میںکمرے سے تیزی سے باہرنکل اورگاڑی کاانتظارکئے بغیرآفس کی طرف پیدل چل پڑا۔تھوڑی دیربعدجب میںتھک گیاتب مجھے محسوس ہواکہ میںپیدل آفس جارہاہوں۔دماغ حاضرنہ ہوتوانسان فیصلہ کرسکتاہے نہ فاصلے طے کرسکتا، یہ بات میںجانتاتھالیکن سکھ کے لمحات میںتمام باتیںیاد رہتی ہیںاوربھلی بھی لگتی ہیں،....جب جان پربنی ہوتوکچھ یاد نہیں رہتا .... اور جب سے اس نے وعدہ توڑنے کی بات کی تھی میری توجان پربنی تھی ۔میںقریبی سٹا پ پرپہنچااورگاڑی میںبیٹھ کرآفس پہنچ گیا۔حلیے کے ساتھ ساتھ خیالات بھی الجھے ہوںتوانسان کسی محفل میںنہیںبیٹھ سکتا....میرابھی یہی حال تھا،آفس پہنچ کربھی ذہنی طورپرآفس میںنہیںتھاایسی صورتحال میںزیادہ دیرآفس میںرہنامیرے لئے اچھانہیںتھا....کیونکہ چندکولیگ مجھے سلجھاہواانسان سمجھتے تھے لیکن اس وقت تومیںبہت الجھاہواتھا....میںنہیںچاہتاتھاکہ کوئی مجھ سے اس الجھائوکے بارے میںبات کرے ۔میںآفس سے باہرنکل آیا،کچھ دیریونہی چلتارہا، سوچوںمیںگم انسان کواپنے آس پاس کاہوش نہیںہوتا، مجھے بھی نہیںتھا، میرے ہاتھ میںپکڑے موبائل کی بیل مسلسل بج رہی تھی اورمیںخودکلامی میںمصروف تھا، ہوش تومجھے اس وقت آیاجب پیچھے سے آنے والی کوسٹرنے اچانک بریک لگائے کیونکہ میںروڈکے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے درمیان میںآگیاتھا۔بریک اورہارن کی آوازنے مجھے چونکادیا،میںایک سائیڈپرہوا،کوسٹرکا ڈرائیور شریف اس نے مسکراکرمیری طرف دیکھااورایکسی لیٹرپرپائوںرکھ دیا،شایدوہ بھی ان حالات سے گزراتھایاواقعی شریف آدمی تھا،میرے ہاتھ میںپکڑاموبائل کی بیل مسلسل بج رہی تھی اورمیںنے نمبردیکھاتواسی کاتھا....”ہیلو“میںنے فون کوکان سے لگاکرکہا،”کہاںہو؟“اس نے پوچھا،میںاسے کیابتاتاکہ کہاں....میںتوکہیںبھی نہیںتھا۔مجھے جگہ توکیااپنے آپ کاپتانہیںچل رہاتھا۔ ”پتانہیں“میںجومحسوس کررہاتھاوہی کہہ دیا....”کیوںپتانہیں، میںتمہارے آفس آئی تھی اورتم آفس سے نکل چکے تھے ، ساحل کہاں ہواس وقت ؟پلیزبتائو....“اس کالہجہ رودینے والاہوگیا،....”تم جانتی ہومیںسچ بول رہاہوں،پھربھی اصرار کررہی ہو“....”ہوش میںآئوساحل ،خداکیلئے اس بات کوذہن پراتناسوارنہ کرو،پلیزبتائوکہاںہو“....اس نے کہاتھاتومیںکیسے ہوش میںنہ آتا، میںنے اس کی بات کب ٹالی تھی ....جواب ٹالتا،میںنے اپنے آس پاس دیکھااوربتایاکہ میںآبپارہ کے پاس ہوں۔”وہیںٹھہرو....میںآرہی ہوں“اورمیںٹھہرگیا....میرے لئے تووقت ٹھہرچکا....گھڑی کی سوئیاںٹک ٹک کرتی تھیں،چلتی نہیںتھیں۔یوںلگتاتھاکہ گھڑی خراب ہوگئی ہے ،....کیونکہ میری جوگھڑی بیت رہی تھی وہ توخراب ہی بیت رہی تھی ،اس لئے مجھے توایساہی لگناتھا۔میںآبپارہ کے قریب ایک سائیڈپرکھڑاتھاکہ ایک ٹیکسی میرے قریب آکررکی،وہ نیچے اتری اورمیری قریب آگئی ،....”چلو“اس نے کہااورچلنے لگی میںبھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔مجھے یوںلگ جیسے میںکوئی چھوٹاسابچہ ہوں،اس کودیکھتے ہی میںمیراذہن یک دم خالی ہوگیاتھا، اورمیںکسی ربوٹ کی طرح اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔وہ قریبی پارک میںجارہی تھی اورمیںبھی اس کے ساتھ ساتھ تھا،وہ ایک گھنے درخت کے سائے تلے بیٹھ گئی اورمیںبھی ۔گھنی چھائوں میںبیٹھ کربھی مجھے یوںمحسوس ہورہاتھاکہ میںجھلس رہاہوں،ایک آگ تھی جومیرے تن بدن کو جھلسا رہی تھی ۔”تم خفاہومجھ ....میںجانتی ہوں“اس نے ایک بارپھرمجھے سمندرمیںپھینک دیا.... اورمیںخیالات کے سمندرمیںغوطے کھانے لگا۔میراذہن جوکافی دیرسے بالکل خالی تھااچانک سوچوںکے جھکڑچلنے لگے، مجھے یوںلگاجیسے ربوٹ میںروح پھونک دی گئی ہو۔”تم انکارکرسکتے ہو ....لیکن پلیزمجھ سے خفامت ہونا،میںتم سے دوررہ کرجی لوںگی لیکن تم خفاہوئے تومرجائوںگی“اس بارمیںنے سمندرسے نکلنے کیلئے اس کاسہارالینے سے انکارکردیااورخودہی سمندرسے نکلنے کافیصلہ کرلیا۔....”کیاہم صرف دوست نہیںرہ سکتے ؟“میںہمت کرکے کہا،”تم نے سنانہیںکہ محبت ہوجائے تودوستی پراکتفانہیںکیاجاسکتا“....اس نے مجھے پھرسمندرمیںپھینکنے کی کوشش کی ،لیکن میںنہ اس باراپنے پائوںمضبوطی سے جمالئے ۔”تم جانتی ہوکہ میںدوستی سے آگے نہیںبڑھ سکتا،اس لئے میںصرف دوست ہی رہ سکتاہوں“مجھے محسوس ہواکہ میرے لہجے میںکچھ سختی اورتلخی آگئی تھی ۔”اب میرے لئے ایساممکن نہیںہے ،میںجس منزل پرپہنچ چکی ہوںوہاںسے واپسی کامطلب موت ہے ،تم چاہتے ہوکہ میںمرجائوں“وہ دانستہ یاغیردانستہ طورپرمجھے جذباتی بلیک میل کررہی تھی ....وہ ایک بارپھرجواب طلب نظروںسے میری طرف دیکھ رہی تھی اورمیںآخری باراس سے نظریںچراکراٹھااورپارک سے باہرچلاآیاا&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6091542990551693712-1847291932871639360?l=vop-voicepakistan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/feeds/1847291932871639360/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/07/blog-post_21.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/1847291932871639360'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/1847291932871639360'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/07/blog-post_21.html' title='آنسو'/><author><name>Afzaal Khan</name><uri>http://www.blogger.com/profile/17233152306046195053</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='30' height='32' src='http://2.bp.blogspot.com/_Xe-dkT1TmdM/She1e-Vt2TI/AAAAAAAAAAM/7VKFQtO1Yb8/S220/afzaal+.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6091542990551693712.post-7745853327559228011</id><published>2009-07-13T02:56:00.001-07:00</published><updated>2009-07-13T02:58:05.197-07:00</updated><title type='text'>اعجازالحق کاخصوصی انٹرویو</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span style="font-weight: bold;"&gt;اعجازالحق کاخصوصی انٹرویو&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-weight: bold;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-weight: bold;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انٹرویو:افضال خان&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-weight: bold;"&gt;سیف اللہ ربانی&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنمااعجازالحق سابق صدروچیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاءالحق کے صاحبزادے ہیں۔ آپ جنرل مشرف کے دورحکومت میںوفاقی وزیربرائے مذہبی امورکی ذمہ داریاںسرانجام دیتے رہے ، جنرل مشرف کایہ دورفوجی آپریشنزکادور تھا۔بلوچستان ، فاٹااورلال مسجدآپریشن نے پورے ملک کی بنیادیںہلاکررکھ دیں۔ان آپریشنز کی وجہ سے مسلم لیگ ق کی ساکھ بری طرح متاثرہوئی ۔ 2008کے انتخابات میں مسلم لیگ ق کو اکثریت حاصل نہ ہوسکی اورجماعت کواپوزیشن میں بیٹھناپڑا۔ پھرجنرل مشرف کی اقتدارسے علیحدگی کے بعد اس جماعت میں اختلافات شدت اختیارکرنے لگے ۔ ان دنوںبھی مسلم لیگ ق میں اختلافات اتنے شدیدہوچکے ہیں کہ سیاسی مبصرین اس کاشیرازہ بکھرنے کی پیشن گوئیاںکررہے ہیں۔ہم نے مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنمااعجازالحق سے ان کے دورحکومت اورموجودہ حالات اورجماعت کے اندرموجود اختلافات کے حوالے سے خصوصی انٹرویوکیا۔جوقارئین کیلئے پیش کیاجارہاہے ۔&lt;br /&gt;اذکار:ق لیگ میںچوہدری برادران اورہم خیال گروپ میںاختلافات شدت اختیارکرچکے ہیں ؟اس پرآپ کی کیارائے ہے؟&lt;br /&gt;اعجازالحق: جب ہماری حکومت تھی تواس وقت قانون بناتھاکہ کوئی شخص دومرتبہ سے زیادہ صدریاوزیراعظم کے عہدے پرنہیں رہ سکتا۔اسی بات کوسامنے رکھتے ہوئے چوہدر ی شجاعت نے فراخدلی کا مظاہرہ کیااورکہاکہ ہم اپنی پارٹی میں بھی اسی قانون کواپنائیںگے۔لیکن بعد میں یہ کوشش کی گئی کہ اگر چوہدری شجاعت کے دومرتبہ صدربننے کی شرط پوری ہورہی ہے توپرویز الہٰی کومرکزی صدربنادیا جائے، مگر پارٹی کے مرکزی رہنمائوں کی بھاری اکثریت نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اورپھرباہمی اختلافات کا آغاز ہوگیا۔ان حالات میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ پارٹی مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی بنادی جائے۔ جب وہ کمیٹی بن گئی تو جن افراد نے کمیٹی کی رائے دی تھی وہ کمیٹی کے ارکان سے متفق نہ تھے ۔ یہ بھی تھاکہ پہلے پندرہ لوگوں کی کمیٹی بنناتھی لیکن اس کمیٹی میں 55 لوگ شامل کردئیے گئے۔حالانکہ یہ تعداد ہماری سنٹرل کمیٹی کی تعداد سے بھی بہت زیادہ ہے ۔ اب اتنے لوگوں سے بات کرنا اورانہیں جمع کرنا بہت مشکل کام تھا ،اوریہی ہواکہ ایک ہی میٹنگ ہوئی پھراس کے بعد کوئی میٹنگ نہیں ہوسکی ۔&lt;br /&gt;اذکار:اختلافات کی اہم وجوہات کیاہیں؟&lt;br /&gt;اعجازالحق:اختلافات کی بڑی وجہ یہی ہے کہ پارٹی کوایک خاندان کے قبضے میںنہیں دیاجاسکتااس پررہنمائوںکااعتراض ہے اوردوسری وجہ یہ کہ آپ دوتاریخ کواعلان کررہے ہیں اورپھرکہتے ہیں کہ اتنے کم وقت میںانتخابات ہونگے۔ پارٹی الیکشن کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار ہوا کرتاہے ۔ اس میں سینٹرل کمیٹی کا اجلاس بلایا جاتاہے۔پرانی کونسل موجودہے ،مسئلہ وہاں لے کرآئیںتو پھرالیکشن کروادیں ۔ &lt;br /&gt;اذکار:آپ خود اس ساری صورتحال میںکہاںکھڑے ہیں؟&lt;br /&gt;اعجازالحق: میں اگر کسی ایک رخ پر جھکاو¿ اختیار کرتا ہوں تو پھرمفاہمت کےلئے افراد باقی نہیں رہتے اب دونوں طرف سے مجھے میٹنگزمیں بلایا جارہاہے مگرمیں شرکت نہیں کررہا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگراس وقت کوئی شخص کردارادا کرسکتاہے ۔ تو وہ چوہدری شجاعت ہیں اگروہ بڑے پن کا مظاہرہ کریں تو ہی کوئی بہترصورت ممکن ہو سکتی ہے اورہم خیال گروپ کے پاس اگر چوہدری شجاعت کے چل کر جانے سے پارٹی میں اختلافات ختم ہوسکتے ہیںتوانہیںایساکرناچاہیے ۔&lt;br /&gt; اذکار: اگراختلافات ختم نہ ہوئے توکیا نئی مسلم لیگیں جنم لے سکتی ہیں ؟&lt;br /&gt;اعجازالحق: اس وقت کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کل کی کسی کو کیا خبر۔لیکن اتناضروری ہے کہ ایسے حالات میں کچھ بھی ہونا ممکن ہے ۔ پہلے بھی جب مسلم لیگ میں اختلافات ہوئے تونئی مسلم لیگوںنے جنم لیاہے ،جیساکہ میںنے خود ضیا ءالحق شہید گروپ بنا یاتھا جس سے میں نے الیکشن بھی لڑا تھا ۔ اس کے بعد ہم نے کوشش کرکے مسلم لیگوں کو اکٹھا کیا ۔لیکن پھرمنظور وٹو پیپلزپارٹی میں چلے گئے ۔ پیر پگاڑا نے مسلم لیگ فنگشنل بنا لی ۔&lt;br /&gt;اذکار:مسلم لیگ ٹوٹنے کے بعد آپ کس طرف جائیںگے؟ن لیگ کی طرف ؟یا اپناگروپ بنائیںگے؟&lt;br /&gt; اعجازالحق: کہیںبھی اورکسی طرف بھی جانے کاہرایک کواختیارہوتا ہے مگر میں سمجھتا ہوئی کی جس کی پارٹی سے الیکشن لڑیں اس کا ساتھ نہیں چھوڑ نا چاہیے۔ اس معاملے میں دیکھتے ہیںکیاہوتاہے ، ویسے اگر کوئی میاںصاحبان ، چوہدری صاحبان یا کسی اور کے ساتھ جانا چاہتا ہے تو وہ اس کواختیار ہے ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین کی سوچ انتہائی محدود ہے وہ سمجھتے ہےں کہ پارٹی کے افراد ہمارے غلام ہیں ۔ یہ غلط ہے ، ہرکسی کی اپنی سیاست ہوا کرتی ہے ، ہرایک نے اپنے حالات کودیکھنا ہوتا ہے ۔&lt;br /&gt;اذکار:آپ کاجھکائوتون لیگ کی طرف ہی لگتاہے ، نوازشریف سے آپ ملاقات بھی کرچکے ہیں؟&lt;br /&gt; اعجازالحق: میں ان کے پاس بغیرکسی مقصدکے گیا تھا اورانہوں نے اس کو بہت سراہا تھا میں پورے دو گھنٹے ان کے پاس بیٹھا رہا اورمیں ایک ایسے وقت میں ان کے پاس گیاتھا جب ان کی پنجاب میں حکومت بھی ختم ہوچکی تھی اوران پربہت مشکل وقت تھا۔ لیکن میرا یہ جانا جماعت میں شمولیت کیلئے نہیں بلکہ رضا کارانہ تھا ۔&lt;br /&gt;اذکار:یہاںکون رضاکارانہ طورپرجاتاہے ؟اس میں بھی کچھ نہ کچھ مفاد توہوگا؟&lt;br /&gt;اعجازالحق: دیکھیں حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست کی خاطر لوگ سب کچھ بیچنے کیلئے بیٹھے ہیں ۔یہاں نظریاتی سیاست ختم ہوچکی ہے اوراب صرف مفادات اور اقتدار کی سیاست باقی رہ گئی ہے ۔لیکن میں پوری سچائی سے کہہ رہاہوںکہ میراکوئی مقصدنہیں تھا۔&lt;br /&gt;اذکار:نظریات کی سیاست بالکل ختم تونہیںہوئی؟کہیںکہیںنظریاتی سیاست بھی دکھائی دیتی ہے؟جیساکہ چیف جسٹس کی تحریک میں۔&lt;br /&gt; اعجازالحق: مجھے دکھائی نہیں دیتی ۔یہاں ہرکسی کا اپنا اپنا مفاد ہے ۔اوراسی مفاد کے تحت موقف اپنایاجاتاہے۔ آ پ مجھے بتائیں کہ کون نظریات کی سیاست کررہاہے ۔ آپ دیکھیں کہ یہاںپہلی بارایساہورہاہے جوبد قسمتی کی بات ہے کہ ن لیگ پنجاب میںپیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھی ہے اوردوسری طر ف وفاق میں اپوزیشن میں ہے۔یہ سب کیاتماشاہے ۔کہاں کے نظریات اورکہاں کی نظریاتی سیاست۔&lt;br /&gt;اذکار: آپ کے دورمیں بھی ایم ایم اے اورآپ لوگ یہی تماشاکررہے تھے ؟&lt;br /&gt; اعجازالحق: ایم ایم اے فرینڈلی اپوزیشن تھی۔&lt;br /&gt;اذکار: یہ بھی تو فرینڈ لی ہے ؟&lt;br /&gt; اعجازالحق:نہیں یہ امریکہ کی سازش ہے۔ یہ فرینڈ لی اپوزیشن نہیں ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان میںاپوزیشن بالکل ختم ہو جائے ۔ صدرزرداری  کے گزشتہ دورے میں امریکہ نے یہ ڈکٹیشن دی تھی کہ وہ ملک واپس جا کر بجٹ پاس کرنے کے بعد اٹھارویں ترمیم لیکر آئیں اورنواز شریف کے مطالبات پورے کریں۔امریکہ سے یہ بھی ہدایات مل چکی ہیں کہ مسلم لیگ ن کومرکز کے اندر لا کر بٹھائیں ۔اب اٹھارویں ترمیم آئے گی خواہ حکومت چاہے یانہ چاہے۔اسی لئے میںکہتاہوںکہ نظریاتی سیاست ختم ہوچکی ہے۔اگرنظریاتی سیاست ہے تو جب اٹھارویں ترمیم آئے گی اس وقت نوازشریف اختلاف کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہ اختلاف کیسے کرتے ہیں۔ اورآج میں یہ بھی بتادو ں کہ مسلم لیگ ق کو بھی مرکز میں بیٹھنے کی دعوت دی جائے گی ۔ کیو نکہ امریکہ یہ باکل نہیں چاہتا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی کوئی بھی مخالفت کرے ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی کمیٹی کی سفارشات اورقرارداد آٹھ مہینے سے  کوڑے دان میں پڑی ہے ۔ اوریہ بھی دیکھیں کہ ہالبروک جسے میںپاکستان کاوائسرائے کہتاہوں جب پاکستان آیا تھا توپریس کانفرنس کے دوران صدرزرداری ہاتھ باندھ کے کھڑے تھے اورہالبروک کہہ رہاتھاکہ ا ٹھارویں ترمیم کے ذریعے سیاسی مصالحت پیداکی جائے ۔اسی لئے میںکہہ رہاہوںکہ انکو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ یہاں کیا ہونا ہے۔&lt;br /&gt;اذکار:موجودہ حالات میں نوازشریف کاکیاکردارہے اورکیاوہ اپناکرداردرست اندازمیںاداکررہے ہیں ؟&lt;br /&gt; اعجازالحق:اگرنوازشریف سمجھیں اورانہیںاندازہ ہوتواس وقت پاکستان میںان کابہت بڑا کردار ہے کیونکہ اس وقت ملک کوایک اچھی اور مثبت اپوزیشن کی ضرورت ہے جوعوام کے حقیقی مسائل پرآوازاٹھائے ، غریبوںکیلئے کھڑی ہوجائے ۔جوڈرون حملوںاوردہشت گردی کیخلاف جنگ کی مخالفت کرے۔کیونکہ اب تو ہمارے جنازوں پربھی بمباری شروع ہوگئی ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہمارے پاس تو بولنے والا کوئی ہے ہی نہیں ۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفارداروںکاہجوم ہے ۔&lt;br /&gt;اذکار: توکیاآپ یہ سمجھتے ہیںکہ نوازشریف اورامریکہ کی دوستی بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہورہاہے ؟&lt;br /&gt; اعجازالحق:یہ یادرکھیںکہ امریکہ کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔امریکہ نظر یہ ضرورت کاقائل ہے ۔ جہاںجس کی ضرورت ہوتی ہے اس کے ساتھ تعلقات قائم کرلیتاہے اوریہ بھی میں بتادوں کہ اگر نوازشریف کسی غلط فہمی میں ہیں تو انہیں اس سے باہر نکل آناچاہیے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک امریکی تھینک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق صدر زرداری کی مقبولیت دس فیصد سے نیچے گر گئی ہے اورنوازشریف کی مقبولیت ساٹھ فیصد سے بھی اوپر چلی گئی ہے لیکن امریکی کہتے ہیں کہ وہ اکیلے نوازشریف  پرکبھی بھی بھروسہ نہیں کرسکتے۔  اسی لئے وہ زرداری نوازکواکٹھا چلانا چاہتے ہیں ۔&lt;br /&gt;اذکار: آپ کے خیال میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن پھراکٹھاہونے جارہی ہیں؟&lt;br /&gt; اعجازالحق:یہ ہیں ہی اکٹھے ۔یہ علیحدہ کب تھے ؟ ، مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ ہماری قوم کی سوچ ختم ہوگئی ہے ۔ ایک صوبے میں وہ اکٹھے بیٹھے ہیں اورہاتھوں میں ہاتھ ڈال ہوئے ہیں اوردوسری جگہ وہ لڑ رہے ہیں۔&lt;br /&gt;اذکار:آپ لوگوں کے پرانے دوست جنرل مشرف اس وقت کیاکررہے ہیں اوران حالات میںوہ کیا کرداراداکرنے کی کوشش کررہے ہیں ؟&lt;br /&gt;اعجازالحق: مشرف نہ کچھ کررہا اورنہ ہی کچھ کرسکے گا ۔ اگرکوئی سیاستدان یاپارٹی یہ سوچ رہی ہے کہ مشرف کی وجہ سے اسے کوئی فائدہ ہوسکتاہے تووہ بہت بے وقوفی کررہی ہے ۔اس کایہاںاب کوئی کردارنہیں ہے ۔&lt;br /&gt;اذکار:گزشتہ دنوں جنرل مشرف نے آپ کے بارے میںکہاتھاکہ آپ نے لال مسجدکے معاملے پراچھاکردارادانہیںکیا۔ اس پرآپ کیاکہتے ہیں ؟&lt;br /&gt;اعجازالحق: مشرف نے کہاہے کہ میں نے غلط انفارمیشن دی تھی تو یہ مشرف نے جھوٹ بولا ہے ، باقی انہوں نے یہ کہا کہ اعجاز الحق نے زر داری کی رہائی میں کرداراداکیاتھاتواس کے بارے میں سب کچھ میڈیاپرآچکاہے ۔میں نے کرداراداکیاتھا۔&lt;br /&gt;اذکار:آپ لوگوںکے دورحکومت میں بہت سے آپریشنز ہوئے، بلوچستان ، فاٹااورخصوصی طورپرلال مسجدمیں۔ جنہیںعوامی سطح پرتنقید کانشانہ بنایاگیا،ایساکیوںہوا؟&lt;br /&gt; اعجازالحق: مشرف  دور کے جتنے فوجی آپریشنزکے فیصلے تھے ان سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ہماراتعلق نہ تو وزیرستان ،باجوڑ اوربگٹی آپریشن سے تھااورنہ لال مسجدسے ۔ہم نے ہرجگہ کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کئے جائیں۔لیکن ہم سے پوچھا ہی نہیں جاتاتھا ۔&lt;br /&gt;اذکار:اس وقت توآپ لوگ دہشت گردی کیخلاف جنگ کواپنی جنگ کہتے تھے اور اب کہہ رہے ہیں کہ ہماراکسی آپریشن سے تعلق نہیں ؟&lt;br /&gt;اعجازالحق: جوجنگ ہم لڑرہے ہیں یہ اس وقت بھی ہماری جنگ نہیں تھی اورنہ یہ آج ہماری جنگ ہے نہ ہی یہ کبھی ہماری جنگ ہو سکتی ہے ۔&lt;br /&gt;اذکار: لیکن اس جنگ کاآغازتوآپ کے دورمیںہوا؟&lt;br /&gt; اعجازالحق: اس وقت یہ حالات نہ تھے ۔ صرف لال مسجد کا واقعہ ہوا تھا۔مولوی فضل اللہ حکومت سے رابطے میں تھا۔ سرحد میں حالات بہترتھے ۔ صرف باجوڑ میں ایک حملہ ہوا تھا جس کی ہم نے مذمت کی تھی۔&lt;br /&gt;اذکار:اس خطے میں امریکہ کے مقاصدکیاہیں؟اوروہ کس طرف بڑھ رہاہے ؟&lt;br /&gt;اعجازالحق: امریکہ کا افغانستان سے جانے کا ارادہ نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی جنگ کوپاکستان منتقل کررہاہے بلکہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ منتقل کرچکاہے ۔ دوسری بات یہ کہ امریکہ بلوچستان میں کافی عرصے سے دلچسپی رکھتا ہے ۔ انہیں وہاں کے خزانے نظرآرہے ہیں۔ گوادر بندرگاہ پربھی اس کی نظرہے ۔ کیونکہ گوادر بندرگاہ کی تکمیل کے بعد دوبئی اورخلیج پورے کا پوراگوادرسے وابستہ ہوجائیگا۔یہی وجہ ہے کہ گوادرکوپہلے روس نے مانگا اوراب امریکہ مانگ رہاہے۔ وہ یہ طے کرچکے ہیں کہ گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلاتوانگلی کوٹیڑھاکرلیںگے۔اسی لئے وہ حالات کوخراب کرنے کیلئے لسانی فسادات کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اب دیکھیں کہ پنجاب، بلوچستان اورسندھ میں طالبان کی موجودگی کی افواہیںپھیلائی جارہی ہیں۔ خصوصاً سندھ کودیکھیں کوتواب وہاں پٹھانوں کی اکثریت ہورہی ہے ۔ اور ایم کیو ایم کوان سے پریشانی ہورہی ہے اگروہاں حالات ٹھیک نہ ہوئے تو سندھ میںبھی گھرگھر مورچے لگنے کا خطرہ ہے  اوراس کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان میں آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ بریلوی ہے اور ان کے پاس بیس فیصد مدرسے ہیں۔ باقی چالیس فیصد آبادی  دیوبندیوںاور اہلحدیث کی ہے اوران کے پاس اسی فیصد مدارس ہیں اورطالبان سارے کے سارے دیوبندی ہیں ۔اس وجہ سے وہ انہیں پہلے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت بھی انہی فسادات کوہوادینے کی کڑی ہے اورمیں نے دیوبندی علماءسے کہا ہے کہ وہ اپنی مکمل حفاظت کریں کیونکہ اب ان کے کسی عالم کوشہید کیا جائے گا ۔&lt;br /&gt;اذکار: آپ کے خیال میںافغانستان کامسئلہ سیاسی ہے ، مذہبی یاپھرمعاشی؟۔&lt;br /&gt; اعجازالحق: یہ مسئلہ مذہبی  نہیں  البتہ باقی بہت سے مسائل ہیں ، جن میں کچھ سیاسی مسائل ہیں۔ کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پختونوں نے کبھی  بیرونی قوتوں کومسلط نہیں ہونے دیا اورحالات بتا تے ہیں کہ جب بھی آپ کسی اکثریتی قوم کوہٹا کر وہاں اقلیت کواختیارات دیں گے تواکثریت غم غصے کا اظہار کرے گی اوراپنے حقوق کیلئے لڑے گی ۔ وہاں چونکہ پختونوں کی اکثریت ہے انہیں مارنا اور نادرن الائنس والے جو پندرہ فیصد ہیں ان کی حکومت بنادیناایک ظلم ہے ۔پھرحامدکرزئی جیسی کٹھ پتلی کولابٹھانابھی کسی کیلئے قابل قبول نہیںہوسکتا۔&lt;br /&gt;اذکار: کٹھ پتلیوںکی روایت توبہت سے مسلم ممالک میں ہے ۔؟&lt;br /&gt; اعجازالحق: بالکل ہے لیکن وہ اپنے اپنے طریقے سے بیٹھے ہیں جیسے کچھ ان کے ساتھ مل گئے ہیںاور کچھ ایسے ہیں جنہیں لا کر بٹھا دیاگیا ، جیسے پاکستان میں زرداری اورافغانستان میں حامدکرزئی کو بٹھادیاگیاہے۔&lt;br /&gt;اذکار: آپ کی حکومت کواین آراوکی کیاضرورت پڑگئی تھی؟&lt;br /&gt; اعجازالحق:یہ پرویز مشرف اورامریکہ کی سازش تھی۔ انہیں کہاگیا تھا کہ ماڈریٹ لوگوں کو آگے لانا ہے جس میں ہم بھی آتے ہیں۔چونکہ مشرف اورنوازشریف کی لڑائی تھی اس وجہ سے فیصلہ یہ ہوا کہ مسلم لیگ ق اورپیپلز پارٹی کو جوڑ کر حکومت بنائی جائے ۔ اورآج یہ انکشاف  ہورہاہے کہ انتخابات سے قبل ہی مشرف نے چوہدری پرویز الٰہی  کو بتادیا تھا کہ تمہاری چالیس سے 50 سیٹیں آئیں گی۔ جنہیں تم نے قبول کرنا ہے ۔پھرکہاگیاکہ اعجازالحق کوضرور ہرواناہے۔یہ بات بعدمیںمجھے پرویزالہیٰ نے بتائی کہ تمہیںاس لئے ہروایاگیاکہ مشرف یہ سمجھتاتھاکہ جب تک اعجاز الحق پارلیمنٹ میںرہے گا، ق لیگ اورپی پی کوملنے نہیں دے گااورامریکہ اورمشرف چاہتے تھے کہ ق لیگ اورپی پی مل کرحکومت بنائیں۔&lt;br /&gt;اذکار: آپ نے این آراو کی مخالفت کی تھی؟&lt;br /&gt; اعجازالحق: ساری کابینہ نے ہی این آراو کی مخالفت کی تھی ، سوائے دووزیر وں کے ۔&lt;br /&gt;اذکار: صرف دو وزیروں کی حمایت سے این آراوکیسے آگیا؟&lt;br /&gt; اعجازالحق: مشرف نے فیصلہ کرلیاتھا۔ کابینہ کے سامنے توصرف دکھانے کیلئے بھیجاگیاتھا۔&lt;br /&gt;اذکار:مڈٹرم الیکشن ہوتے نظرآرہے ہیں ؟&lt;br /&gt;اعجازالحق:مڈٹرم الیکشن توہوتے نظرنہیں آتے لیکن یہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6091542990551693712-7745853327559228011?l=vop-voicepakistan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/feeds/7745853327559228011/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/07/blog-post.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/7745853327559228011'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/7745853327559228011'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/07/blog-post.html' title='اعجازالحق کاخصوصی انٹرویو'/><author><name>Afzaal Khan</name><uri>http://www.blogger.com/profile/17233152306046195053</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='30' height='32' src='http://2.bp.blogspot.com/_Xe-dkT1TmdM/She1e-Vt2TI/AAAAAAAAAAM/7VKFQtO1Yb8/S220/afzaal+.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6091542990551693712.post-2794564549623517603</id><published>2009-05-28T03:15:00.000-07:00</published><updated>2009-05-28T03:16:49.408-07:00</updated><title type='text'>کبھی کبھی میںسوچتاہوں</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;کبھی کبھی میںسوچتاہوںکہ انسان آج سے  ہزاروںسال پہلے کی آوازکوواپس لے سکے توکیاہو؟لوگ کیابولتے تھے، کیوںبولتے تھے  اورکیاسوچتے تھے ،اورکیوں‌سوچتے تھے، کیاسوچتے تھے ۔ یہ بات کسی کتاب ، کسی گمشدہ  تحریرکی بازیابی، کسی کھنڈرکے ملنے سے سمجھ نہیں‌آسکتی۔ لہجہ بہت بڑی چیز ہے ،  آوازکااتارچڑھائوبہت اہم ہوتاہے، سوچوںکاجواندازلہجے اورآوازکے زیروبم سے معلوم  ہوتاہے وہ کبھی کسی تحریرسے شایدہی معلوم ہوتا ہو۔آپ میری اس خواہش اوراس بات اوراس  دلیل سے اختلاف کرسکتےہیںلیکن نجانے کیوںمیںاکثریہ خواہش کرتاہوں۔کبھی کبھی اس  خواہش میں اتنی شدت آتی ہے کہ سردکھنے لگتاہے، اورمجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن  تاریخ میں‌گمشدہ آوازیں اسی دنیاکے انسانوںکوسننے کوملیں گی۔&lt;br /&gt;پھرمیں یہ بھی  سوچتاہوں،کہ فرعون کی آوازسنوں!&lt;br /&gt;جب وہ لوگوں کوسجدے کاحکم دیتاہے ،&lt;br /&gt;جب وہ  موسیٰ‌سے بات کرتاہے&lt;br /&gt;جب وہ ظلم کیلئے احکامات جاری کرتاہے&lt;br /&gt;جب وہ گھرمیں بات  کرتاہےتوکیسے بولتاہے ، جب دربارسجاتاہے توکیا بولتاہے ،میں سناہے کہ فلاں‌کے لہجے  میں فرعونیت ہے ،لیکن میں‌دونمبرنہی ایک نمبرفرعون کی فرعونیت کالہجہ  سنناچاہتاہوں۔&lt;br /&gt;میں نمرود کوسننا چاہتاہوں،میں ابراہیم کالہجہ  سنناچاہتاہوں،&lt;br /&gt;میں نوح کی وہ باتیں سننا چاہتاہوں‌جووہ اپنی قوم سے کرتے  ہیں،&lt;br /&gt;میں‌شعیب وعیسیٰ کی باتیں‌سنناچاہتاہوں، لہجہ سنناچاہتاہوں&lt;br /&gt;سب سے بڑھ  کرمیں حضرت محمدعلیہ السلام کی آوازسنناچاہتاہوں۔میں سنناچاہتاہوں جب قرآن اترتاہے  ، جب صحابہ تک پہنچتاہے ، جب کسی غزوہ میں‌جاتے ہیں توکیابولتے ہیں، جب طائف میں  جاتے ہیں‌اورانہیں پتھرمارے جاتے ہیں اورفرشتہ آتاہے تووہ کیسے بولتے ہیں، ان  کالہجہ کیاتھا۔ میں‌خطبہ حجۃ الوداع سننا چاہتاہوں۔&lt;br /&gt;میں بہت کچھ  سنناچاہتاہوں۔&lt;br /&gt;کبھی کبھی میں سوچتاہوں کہ یہ سب کچھ میں نہ سن سکاتوپاگل  ہوجائوںگا۔&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;افضال خان&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6091542990551693712-2794564549623517603?l=vop-voicepakistan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/feeds/2794564549623517603/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post_2107.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/2794564549623517603'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/2794564549623517603'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post_2107.html' title='کبھی کبھی میںسوچتاہوں'/><author><name>Afzaal Khan</name><uri>http://www.blogger.com/profile/17233152306046195053</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='30' height='32' src='http://2.bp.blogspot.com/_Xe-dkT1TmdM/She1e-Vt2TI/AAAAAAAAAAM/7VKFQtO1Yb8/S220/afzaal+.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6091542990551693712.post-2611421402755400919</id><published>2009-05-28T02:22:00.001-07:00</published><updated>2009-05-28T02:22:51.302-07:00</updated><title type='text'>آپی!رات مجھے نیند نہیں آئی !</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;آپی!&lt;br /&gt;رات مجھے نیند نہیں آئی !&lt;br /&gt;مجھے نہیںمعلوم کہ خدایزیدوفرعون کی رسیاںدرازکررہاہے یاہمارے اعمال کے باعث ہماری گرفت ہورہی ہے ۔&lt;br /&gt;شب بھرجاگ کردعائوںجاگ دعائوںمیںاٹھے ہوئے ہاتھوںاورہونٹوںپرفریادکرنے والے شایداب اونگھ رہے ہوںمگرمجھے کل رات واقعی نیند نے ایک پل آنکھیںموندنے نہ دیں....&lt;br /&gt;میںنے کل ایک کیمپ میںپناہ گزین بچیوںکی تصویردیکھ لی تھی۔جوروٹی کیلئے قطارمیںکھڑی ہیںاوران سے کچھ فاصلے پہ جواںسال ایک لڑکی گھٹنوںپہ سررکھے ،ہتھیلی پہ گال جمائے ،آنکھوںمیں حسرت لئے پتانہیںکیاسوچ رہی ہے ۔اس کاننگاسرمیںنہیںلرزا....۔اس کے شانے سے پھٹی ہوئی قمیض نے مجھے نہیںرلایا....۔ میں رات بھراس لئے جاگاکہ جب میںنے غورسے اس کاچہرہ دیکھاتووہ بالکل ویسی لگ رہی تھی....۔پنکھے کی ٹھنڈی ہواکے نیچے ، نرم بسترپہ اطمینان اورسکون کی نیند سوئی ہوئی میری چھوٹی بہن جیسی ۔کل شام اس نے بریانی اورقیمے کے کباب بہت شوق سے کھائے تھے ۔&lt;br /&gt;آپی ! رات مجھے نیند نہیںآئی ۔&lt;br /&gt;(میرے دوست ،افسانہ نگار علی محسن کی تحریر&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6091542990551693712-2611421402755400919?l=vop-voicepakistan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/feeds/2611421402755400919/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post_28.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/2611421402755400919'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/2611421402755400919'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post_28.html' title='آپی!رات مجھے نیند نہیں آئی !'/><author><name>Afzaal Khan</name><uri>http://www.blogger.com/profile/17233152306046195053</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='30' height='32' src='http://2.bp.blogspot.com/_Xe-dkT1TmdM/She1e-Vt2TI/AAAAAAAAAAM/7VKFQtO1Yb8/S220/afzaal+.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6091542990551693712.post-2884815328623986102</id><published>2009-05-25T00:25:00.000-07:00</published><updated>2009-05-25T00:27:25.970-07:00</updated><title type='text'>مت جائیو!سید پورگراں</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt; سیدرسول ترگوی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;” سید پورگراں“کی خوبصورتی کے چرچے اکثر و بیشتر سننے اور پڑھنے کوملتے تھے جس سے اشتیاق بڑھ رہا تھا کہ اسے دیکھا جائے۔ افضال بھی کافی عرصے سے کہہ رہا تھا کہ ٹائم نکال کر چلتے ہیں بڑا اچھا ماحول ہے اوردیکھنے کی جگہ ہے، خیر جیسے تیسے گزشتہ ہفتے کے روز دفتری کام نمٹاکرافضال کوفون کیا کہ آ جائو آج اس خواہش کا تیا پانچہ کر ہی لیتے ہیں۔ چنانچہ مقررہ وقت اور جگہ پر اکٹھے ہوئے اور عازم ِسید پور گراں ہوئے۔ میرے خیال میںیہ مقام اسلام آباد کے پوش علاقے سے نکل کر کافی آگے ہوگا اور لمبی ڈرائیو ہوگی مگر وہاں پہنچے تو یہ علاقہ عین اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے پہلو میں دیکھ کر حیرت ہوئی۔ ہم زیرو پوائنٹ سے سیدھے فیصل مسجد ایونیو کی طرف روانہ ہوئے ۔ظفر چوک پہنچ کر دائیں ہاتھ بڑی شاہراہ پر سیدھے ہوگئے۔ تربت روڈ چوک کو کراس کیا تو آگے ذو شروع ہو گیا اور ساتھ ہی سید پور گراں کو مڑنے والے راستے کا بورڈ آنے والے کو خوش آمدیدکہہ رہا ہے مگر اس سے دس قدم پہلے ایک بڑا اور بوڑھا بوہڑ کا درخت اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے اور آپ کو الرٹ کر تا ہے کہ گھبرائیے نہیں آپ منزلِ مقصود پر آ پہنچے ہیں، اسی بوڑھے بوہڑ کے پہلو سے بائیں جانب مڑتے ہی بے ساختہ سی ڈی اے کےلئے کلمہ خیر نکلتا ہے کیونکہ گزشتہ چند برس میں سی ڈی اے نے جس نیک نیتی سے اسلام آباد کو ایک دارالحکومتی میعار کے مطابق خوبصورت بنانے کی کوششیں کی ہیں وہ لائق تحسین ہیں ،اسلام آباد کے طول و عرض میں آپ جہاں بھی چلے جائیں ترقیاتی کام بڑی تیزی سے ہورہے ہیں اور خصوصاً پارکوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ایکڑوں پر پھیلے جنگلی توت کو صاف کر کے وہاں واک ٹریک بنا دیئے گئے ہیں اور پہلے سے موجود سیرو سیاحت کے مقامات کو جدید طرز پر اپنی ثقافت کو نہ صرف نکھار دیا گیا ہے بلکہ آنے والی نسل کے لئے محفوظ بھی بنا دیا گیا ہے۔ شکر پڑیاں ہو ¾ زیروپوائنٹ مانومنٹ ہو ¾ راول ڈیم کا پرانا پارک ہو یا راول جھیل کے دوسرے کنارے پر لیک ویو پارک ہو ¾ جی نائن پارک ہو یا دامن کوہ یا سید پور گراں ہر جگہ بلا شبہ سی ڈی اے نے فنی صلاحیتوں کو خوب استعمال کیا ہے۔ سید پور گراں اسلام آباد کے پہلو میں ایک تاریخی گراں ہے اور اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔ آپ جب وہاں پہنچیں گے تو یقیناً آپ کو اپنا یہاں آنا ضائع محسوس نہیں ہوگا لیکن ایک پہلو ضرور ایسا ہے جس نے مجھے اس کالم کے لکھنے پر مجبور کیا ۔اس ویو پوائنٹ اور سید پور گراں کا اپنا پرانا بازار بھی ہے جہاں کھانے پینے کی چیزیں روٹین کی مارکیٹ قیمتوں کے مطابق ہیں ۔چائے پئیں کھانا کھائیں یا کولڈ ڈرنگ لیں انیس بیس کے فرق سے قیمتیں ایک جیسی ہیں لیکن ویو پوائنٹ کے قلب میں ایک عدد ریفرشمنٹ پوائنٹ ہے۔ جسے اسلام آباد کے دو فائیو سٹارز ہوٹل کے ایک گروپ نے سنبھال رکھا ہے ہر آنے والے کو با امرِ مجبوری اس سے واسطہ پڑتا ہے ایک دو اور ریفریشمنٹ پوائنٹ ہیں لیکن وہ عموماً نظروں سے اوجھل رہتے ہیں ایک تو بالکل داخلی راستہ کے قریب ہے اور دوسرا بالکل اوپر پہاڑی پر ہے جو ڈھونڈنے سے نظر آتا ہے جس پوائنٹ کا ذکر ہورہا ہے یہ مرکزی جگہ پر ہے تھوڑی سی ہائٹ پر ایک مختصر جگہ ٹیبل لگا دیئے گئے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ یہ ایک ایسا اونچا دکان ہے جس کے پکوان کے بارے اردو امثال بنانے والوں نے جو کچھ کہا ہے وہ ہزار ہا فیصد درست کہا ہے ہم گھوم پھر کر آخر میں غلطی سے اسی اونچے دکان پر جا بیٹھے کہ تھوڑی دیر کےلئے سستا لیں، ہم” پینڈو“ لوگوں کےلئے سستانے کے موقع پر چائے کا ایک کپ ہی ریفریشمنٹ کا واحدسامان ہوتا ہے چنانچہ اپنی فطری کمزوری کے ہاتھوں ویٹر کو دو کپ چائے کا آڈر ہی دے دیا۔ وہ اگلے لمحے دو گرم گرم کپ ہمارے سامنے رکھ کر اِدھر اُدھر ہوگیا ،کپ ڈیزائن کے لحاظ سے خوبصورت تھے ان کی بناوٹ پر گفتگو ہوئی، کپ میں پڑی چائے پر دو دھ کی جھاگ کی ایک دبیز تہہ نظر آئی افضال نے کہاکہ لگ تو اچھی رہی ہے ،میں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور دوسری طرف متوجہ ہو گیا اتنے میں افضال نے کپ اٹھا کر چسکی لگائی تو کہنے لگا صرف جھاگ ہی ہے نیچے چائے تو ریلوے سٹیشن والی ہے میں بھی متوجہ ہوا کپ اٹھایا چسکی لگائی تو افضال سے کہا یار اونچے دکانوں پر اسی طرح کے پکوان ہوتے ہیں۔ خیر باتوں باتوں میں جیسے تیسے چائے پی لی کیونکہ طلب بڑھی ہوئی تھی، تھوڑی دیر بعد ویٹر نے ٹیبل کاطواف کیا اس سے پوچھا کہ کتنے پیسے ہوئے۔ قبل ازیں ہم اندازہ کررہے تھے کہ عام مارکیٹ میں دس روپے کا کپ ہے یہاں زیادہ سے زیادہ بیس روپے میں ہوگا یا تیس روپے میں ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں سیاحتی مقامات پر عموماً دگنا ریٹ ہوتا ہے کولڈ ڈرنک اگر مارکیٹ میں پندرہ روپے میں ہے تو وہاں تیس روپے کی ملے گی یا 25روپے میں۔ اسی طرح دیگر کھانے پینے کی چیزوں کا حال ہوتا ہے ہم بھی اسی توقع کے ساتھ بیٹھے تھے لیکن ویٹر نے دو کپ چائے کی قیمت جتنی بتائی وہ کسی بڑے سے بڑے جھوٹ سے بھی زیادہ نکلی ۔ہم دونوں ایک دفعہ چونک سے گئے کہ شاید ویٹر مذاق کررہا ہے لیکن ویٹر کی سنجیدگی نے ہاتھوں کے طوطے اڑا دیئے، اسی عالم میں ایسے ادائیگی کر دی جیسے کہتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں ایسے دو کہ اگر دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے ۔اوپر سے ویٹر نے یہ احسان بھی چڑھا دیا کہ اوپر والے 12 روپے نہ دو آجکل یہ رعایت چل رہی ہے۔ اتنی بے تکی قیمت پر ویٹر سے مزید تفصیل جانی تو” تراہ“ نکل گیا ۔اس نے مینوکارڈ ہمارے سامنے رکھا کہ جناب خود پڑھ لیں میں مذاق نہیں کررہا۔ جتنے بھی ریٹ تھے وہ تمام کے تمام اچھے بھلے آدمی کے پسینے چُھوٹانے کےلئے کافی تھے مثلاً مارکیٹ میں نان سات روپے کا ہے جبکہ وہاں تیس روپے سکہ رائج الوقت وصول کئے جارہے ہیں۔ صحافتی عادت کی وجہ سے ویٹر سے دیگر معلومات حاصل کر لیں کہ کون اس کا مالک ہے اور یہ کہ ریٹ کون مقرر کرتا ہے۔ باتوں باتوں میں ویٹر سے پوچھا کہ کتنی دیہاڑی یاتنخواہ ملتی ہے کہنے لگا بلیو ایریا کے کئی بڑے بڑے ریستو رانوں کے ویٹرز سے دوگنا ملتی ہے ہم نے کہا کیسے تو کہنے لگا بلیو ایریا کے بڑے بڑے ریستورانوں پر کام کر نے و الے ملازموں کو کئی بار ساٹھ ستر روپے روزانہ پلے سے دینا پڑتے ہیں۔ اس نے جتنی دیہاڑی بتائی تو ہم نے کہا کہ یہ تو پھر آپ کی دیہاڑی یہاں کی چائے کے دو کپوں کی مار ہے، اسے دو نفلوں کی مار والا لطیفہ یاد آگیا اور خوب کھلکھلا کر ہنسا ۔ہم نے اجازت چاہی اور اپنے آپ کو کوستے ہوئے وہاں سے نکل آئے، وہاں سے نکلے تو مجھے ایک اورلطیفہ یاد آگیا ”کسی کو خواب کے عالم میں فرشتے جنت اور دوزخ کی سیر کراتے ہیں جنت کی سیر کے بعد اس نے فرشتے سے کہا کہ جناب اس دیوار کے پار کیا ہورہا ہے فرشتے نے کہاکہ ادھر دوزخ ہے ا سے مت دیکھئیو۔لیکن وہ ضد کر کے جھانک کر دیکھتا ہے تو دوزخیوں کی چھترول سے چیخیں نکل رہی تھیں وہ فوراً دیوار سے اترتا ہے اورکانوں کوہاتھ لگا کر کہتا ہے کہ ا تنا نہ مارو....اتنا مارو گے تو پھر یہاں کو ن آئے گا ؟۔ اب ذرا آپ ہی فیصلہ کریں اور ایک کپ چائے کا ریٹ سن لیں ۔پاکستان کی موجودہ کرنسی جس پر لکھا ہوتا ہے رزق حلال کمانا عین عبادت ہے، میں106روپے فی کپ وصول کئے جارہے ہیں۔ یوں ہم نے12 روپے کے احسان کو منہا کر کے 200روپے دو کپ چائے کے ادا کئے اس سے آگے کیا لکھوں ۔نو دولیتوں کےلئے تو دو سو روپے بارے سوچنا بھی گناہ ہوگا لیکن ہم جیسے لوئر مڈل کلاسیئوں کو کیاسیدپور گراں جانا چاہیے؟ تو آپ کا جواب اس لطیفے والے کی طرح ہوگا کہ جب اتنامارتے ہیں اورپوچھنے والا بھی کوئی نہیں تو پھروہاں کیوں جائیں ؟ اسی لئے میں اپنے کالم کا عنوان” مت جائیو سید پور گراں“ دینے پر مجبور ہوا۔ سی ڈی ا ے کی تزئین و آرائش پر کی جانے والی محنت اپنی جگہ لیکن اونے پونے داموں لیز دی جانے والی جگہ پرلوٹ مار بھی اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔کیوں آپ کیا کہتے ہیں؟&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6091542990551693712-2884815328623986102?l=vop-voicepakistan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/feeds/2884815328623986102/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post_25.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/2884815328623986102'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/2884815328623986102'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post_25.html' title='مت جائیو!سید پورگراں'/><author><name>Afzaal Khan</name><uri>http://www.blogger.com/profile/17233152306046195053</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='30' height='32' src='http://2.bp.blogspot.com/_Xe-dkT1TmdM/She1e-Vt2TI/AAAAAAAAAAM/7VKFQtO1Yb8/S220/afzaal+.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6091542990551693712.post-7143728235343586310</id><published>2009-05-23T01:42:00.001-07:00</published><updated>2009-05-23T01:47:05.658-07:00</updated><title type='text'>گریٹ پاکستان</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;افضال خان&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;2009پاکستان کیلئے فیصلہ کن سال ثابت ہوگا،ایک سونامی ہے جوآرہاہے اورہرچیز کوبہالے جاناچاہتاہے ۔ ہم نے گزشتہ کالم میںیہ کہاتھا کہ بات اب گریٹر پختونستان تک نہیںرہی بلکہ گریٹربلوچستان تک آپہنچی ہے اوراس بات کوسمجھنے کیلئے افلاطون ہوناضروری نہیںہے اورنہ ہی یہ بات اب راز رہی ہے کہ سیاست کی عالمی بساط پرنئے مہرے سجائے جارہے ہیں ۔نئی حدبندیوںاوردرجہ بندیوں کاسلسلہ فائلوں تک محدود نہیںرہا۔زمینی حقائق اس بات کے شاہدہیں ۔ واشنگٹن اورکچھ مغربی دارالحکومتوںکے چند اذہان مسلسل الٹی گنتی گننے میںلگے ہوئے ہیں۔کچھ پیشنگوئیاں توہم گزشتہ چندسال سے سنتے چلے آرہے ہیں، ان کے مطابق پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے نئے نقشے کافی عرصہ قبل منظرعام پرآچکے ہیں، اب سرحدوں کی نئی حد بندی کیلئے عالمی ”پٹواریوں“ نے فیتے اپنے ہاتھوںمیں پکڑ لئے ہیں۔عالمی طاقتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کوبراہ راست ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیںکررہیں، انہیں آگاہی ہے کہ ایٹمی پاکستان کے پاس دنیاکی ایک بہترین فوج بھی ہے اگرچہ اس فوج کے کچھ مسائل ہیںجنہیںحل کرناضروری ہے لیکن پھربھی ایک بڑی اورتربیت یافتہ فوج اگرتمام تر مصلحتوںکوٹھکراکرسامنے کھڑی ہوگئی تواسے دوبدو شکست دیناآسان نہیںہوگا، عالمی منصوبہ ساز اس بات کواچھی طرح جانتے ہیںکہ انہیںپاکستان میں عراق اورافغانستان سے بالکل منفردحالات کاسامنا کرنا پڑے گا،آپ کویادہوگاکہ جب امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میںآئی تھیںتوانہیںپھولوںکے ہار پہنائے گئے تھے ، کرائے کے لوگوںاورکچھ این جی اوز کے کارندوں نے یہ سارا ڈرامہ عراق میںبھی رچایا تھا ، وہاںبھی امریکہ اور اتحادی افواج پرپھولوںکی پتیاں نچھاور کی گئیںاوران کے گلے میںپھولوں کے ہارپہنائے گئے ،جنہیںمغربی میڈیانے کامیابی کے طورپرپیش کیاتھالیکن پاکستان میںایسانہیںہوگا، ایساکرنے کی جرا¿ ت تو کوئی این جی اویاامریکہ کے زرخریدغلام بھی پاکستان میں نہیں کر پائیںگے۔ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ امریکہ کیخلاف جتنی شدید نفرت اس وقت یہاں پائی جاتی ہے شایدہی کہیںاورپائی جاتی ہواورجتنی شدت سے پاکستانی امریکہ کے خلاف کھڑے ہونگے شاید ہی کسی اورملک کاباشندہ کھڑا ہو۔ یہاںکابچہ بچہ امریکہ کیلئے عذاب بن جائیگا۔ یہ بات امریکی دفاعی ماہرین اورانٹیلی جنس ادارے اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسی لئے وہ خفیہ راستوں سے پاکستان کو نقصا ن پہنچانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔پھرامداد کالالچ اورمشکلات کاخوف دے کرحکمرانوں سے کچھ من پسندفیصلے کرالیتے ہیں۔آئی ایم ایف ، ورلڈبنک اورامریکی امداد وہ گھن ہے جو پاکستان کوکھاگیاہے ، عالمی طاقتیںکبھی بھی پاکستان کو پائوںپرکھڑاہونے دینانہیںچاہتیں۔اس وقت بھی امریکہ کی” سیکرٹ ٹاسک فورس“کے اعلیٰ ترین اہلکار پاکستان میںمصروف عمل ہیں،آپ دیکھ سکتے ہیںکہ ان کی منصوبہ بندیاں کس قدرکامیاب ہورہی ہیں۔ بارود کی بدبو پوراملک سونگھ رہاہے ۔ یہ بدبویونہی نہیں پھیلائی گئی ،یہ کوئی اندرونی جنگ نہیںہے بلکہ امریکہ کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ ہے ۔اگرکوئی اس جنگ کواپنی جنگ ثابت کرنے کے دلائل دینے کاشوقین ہے تووہ بتائے کہ 2001سے پہلے یہ جنگ کیوںنہیںتھی ،آج جولوگ پاکستان میںخود کش دھماکے کررہے ہیں وہ 2001 سے پہلے کہاںتھے۔یہ صرف د ہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی عطاکردہ ”سوغات “ ہے ، دوغلی امریکی پالیسیوںکاثمر ہے ، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام امریکہ کو کم ازکم اب اپنادوست سمجھنے پرتیارنہیںہورہے ۔اورجب بھی امریکہ کی طرف سے کسی نئی امداد کی بات کی جاتی ہے توپاکستان میںیہ تاثر عام ہوجاتا ہے کہ یہ کسی نئی سازش کی کڑی ہے ، اب ہم سے کوئی اورغلط کام کروایاجائیگا۔یہ تاثرصرف کتابوں ، اخباروں اورٹی وی چینلز کے تجزیوں تک نہیںبلکہ گلی کوچوںمیںانتہائی پختہ ہوچکاہے ۔اس لئے پاکستان کے حکمرانوں کوبھی یہ بات اپنے پلوسے باندھ لینی چاہیے کہ ان کی بقاعوام کے ساتھ رہنے میںہے ، عالمی طاقتیں انہیںاستعمال کرکے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیںگی ۔مثالیںآپ کے سامنے ہیں، بھٹو مر بھی جائے تو”زندہ ہے بھٹو“کے نعرے بلندہوتے ہیں اور ڈکٹیٹروںاورایک میرجعفروں کوتوشاید قبرکے کیڑے بھی کھاناپسندنہیں کرتے ہونگے۔ایسے نازک موقع پرآنکھیںکھلی رکھنے کی ضرورت ہے ، ہلکی سی سرسراہٹ کوبھی نظرانداز نہیںکیاجاسکتا۔حکمرانوں اور رہنمائوں کویاد رکھنا چاہیے کہ بے خبری اورخوش فہمی وہ بیماریاں ہیں جو قوموں کونگل جاتی ہیں، تاریخ کے اوراق سے گرد ہٹائیں اوردیکھیںکہ جب اندلس اجڑرہاتھاتوحکمران سمجھ رہے تھے کہ ابھی تک ہم نے سرحدوں کاتقدس پامال کرنے کی” اجازت“ نہیں دی اس لئے سرحدیںمحفوظ ہیں ،بغداد برباد ہو رہا تھا، حکمران بے خبرتھے،دشمن کی فوجیںگلی کوچوںمیںقتل عام کرتے ہوئے شاہی محل تک پہنچ گئیں،ہندوستان پر انگریزوں کاقبضہ ہوگیاتھااورحکمران انجان بنے بیٹھے یہ سمجھ رہے تھے کہ حکم ان کا ہی چلتاہے ، ملک ان کے ہی تابع فرماں ہے ، اورہندوستان کی سرحدیںمحفوظ ہیں۔ اس بے خبری کے جرم کی سزایہ ملی کہ سوسال تک انگریزوں کی غلامی کرناپڑی ، لاکھوںانسانوں کاقتل ہوا اوراس غلامی کے دورکے نتائج آج بھی ہم بھگت رہے ہیں۔ یہ اسی غلامی کانتیجہ تھاکہ ”سونے کی چڑیا“ کہلانے والے خطے کے لوگ پوری دنیاسے بہت پیچھے رہ گئے ، جب انگریزیہاںآئے تھے تواس وقت عالمی تجارت میںہندوستان کاحصہ پچیس فیصدسے زائد تھااورجب گئے توصرف سات سے آٹھ فیصدرہ گیاتھا، حکمرانوںکی اسی کوتاہی اورکوتاہ نظری کانتیجہ ہے کہ تعلیم وتربیت کامیدان ہو، یاسائنس وٹیکنالوجی کا ، ایجادات ودریافت کی بات ہویاستاروں پرکمندڈالنے کی ، یہ خطہ بہت پیچھے رہ گیاہے ۔پھر جب پاکستان بن گیاتب بھی اس تقسیم کے بعد کچھ زیادہ سنجیدگی سے کام نہیںکیاگیا، کبھی آئین نہیںبنااورجب بناتوپامال ہوا،ناانصافی عام رہی اورافسوس کی بات یہ کہ یہاںکے حکمرانوں نے وہی وتیرہ اپنایاجوصدیوںسے مسلم دنیا کے حکمرانوں کاتھااوربات سقوط ڈھاکہ تک پہنچ گئی ، اس وقت بھی حکمران کہہ رہے تھے کہ کچھ بھی نہیںہوا، چندشرپسندوں نے مسئلہ پیداکیاہے ان سے ہم نمٹ لیںگے۔پھر وہ وقت کسے بھولتاہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان ہوگیا۔یہ وہ دکھ ہے جوپاکستان کی نسلوں کی روحوںکومنتقل ہوتاہے اورہرپیداہونے والاپاکستانی کٹے ہوئے بازوکے ساتھ پیداہورہاہے ۔ اب ایک بارپھر ایساہی کچھ ہونے کی پیشنگوئیاںکی جارہی ہیں۔ایسی ہی کچھ منصوبہ بندیاں ہورہی ہیںلیکن اس بار بے خبری نہیںہوگی ، حکمران سوبھی گئے توسولہ کروڑپاکستانی جاگیں گے ، رہنما راستہ بھول بھی گئے توسولہ کروڑپاکستانی صراط مستقیم پرچلتے رہیںگے۔ رہبروں نے رہزن بننے کی کوشش کی توتاریخ کے پاتال میںدفن کردئیے جائیںگے۔کیونکہ اب کسی گریٹرپختونستان، گریٹر بلوچستان ، گریٹرسندھ یا گریٹرپنجاب کی سازش کامیاب ہونے نہیں دی جائیگی ۔کیونکہ ہمیںیقین ہے کہ سولہ کروڑپاکستانی اب صرف گریٹ پاکستان بنائیںگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6091542990551693712-7143728235343586310?l=vop-voicepakistan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/feeds/7143728235343586310/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post_2019.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/7143728235343586310'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/7143728235343586310'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post_2019.html' title='گریٹ پاکستان'/><author><name>Afzaal Khan</name><uri>http://www.blogger.com/profile/17233152306046195053</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='30' height='32' src='http://2.bp.blogspot.com/_Xe-dkT1TmdM/She1e-Vt2TI/AAAAAAAAAAM/7VKFQtO1Yb8/S220/afzaal+.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6091542990551693712.post-2300808703669770521</id><published>2009-05-23T01:26:00.001-07:00</published><updated>2009-05-23T01:28:09.630-07:00</updated><title type='text'>آخری بار ،آخری فیصلہ</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;افضال خان&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;afzaal2020@gmail.com&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;”توپھر آصف زرداری کوپاکستان کی صدارت سے کیسے ہٹائیں؟“ یہ وہ سوال ہے جوامریکہ کے پالیسی سازوںکیلئے ان دنوںسب سے بڑی الجھن کاباعث بناہواہے۔ امریکیوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ کبھی ایسے سوالات پر زیادہ غور کرنے کے عادی نہیںرہے۔اسی لئے ان کے اعصاب معمول سے زیادہ تنائوکاشکارہیں۔اورکیوںنہ ہوں وہ جب بھی اورکہیںبھی کسی کوہٹانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیںتوہٹادیتے ہیںسوائے ان چند ممالک کے جہاں ان کا ہاتھ نہیںپڑتا۔بدقسمتی سے پاکستان کاشماران ممالک میںہوتاہے جہاںامریکیوں کاہاتھ اچھی طرح پڑتا رہا ہے ۔یہ اوربات ہے کہ اس بارانہیںکچھ مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ایک منتخب حکومت کواورچیف جسٹس کی بحالی سے بیدار ہونے والے پاکستانیوںکودبانے یافریب دینے میں کچھ ہچکچاہٹ سی محسوس کررہے ہیں ۔ دنیا بھرمیںجمہوریت کاڈھنڈورا پیٹنے والوںکیلئے ایک سالہ پاکستانی منتخب حکومت کوہٹانا جوئے شیرلانے کے مترادف ہوچکاہے ، انہیںسمجھ نہیںآرہی ہے کہ وہ موجودہ حکمرانوںسے کیسے نجات حاصل کریںاوراپنی مرضی کے لوگوں کو سامنے لے آئیں ، انہیںکسی چھوٹی سیاسی جماعت کے علاوہ کہیںسے بھی کوئی خوشی کی خبرسنائی نہیںدے رہی ، پیپلزپارٹی میںکسی بڑی بغاوت کافی الحال سوال ہی پیدانہیں ہوتا ،نوازشریف منتخب حکومت کوگرانے میں حصہ داربننے کوتیارنہیں،وکلاءکی تحریک کامیاب ہوچکی ہے اورچیف جسٹس بحال ہوچکے ہیں اس لئے وہ تحریک بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئی ، شاید اسی لئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ہم نے چیف جسٹس کوبحال کرکے پاکستان کوبچالیاہے ،موجودہ حالات دیکھ کریہ یقین ہونے لگتاہے کہ اورکچھ ہو نہ ہو چیف جسٹس کی بحالی کافوری فیصلہ جیسے بھی ہوا جس کسی نے بھی کرایااورلانگ مارچ کوختم کرانے کیلئے جس نے بھی ڈیل کی یاکرائی ،کم ازکم پاکستان کے حق میںبہترہی ہوا ہے اورجنہوںنے اپنی اناکوپس پشت ڈال کریہ فیصلہ کیاہے انہوںنے دانستہ یانادانستہ یاچاہے مجبوری سے ہی پاکستان کوبچایاہے ۔اس وقت امریکیوںکیلئے فوری طورپر کوئی نئی تحریک چلانااگرناممکن نہیںتومشکل ترین ٹاسک ضرور ہے ۔ صدرکومواخذے کے بغیرفوری طورپر ہٹا نے کاکوئی قابل قبول طریقہ نہیںہے۔پیپلزپارٹی کی حکومت کوختم کرنے کیلئے عدم اعتماد کاواحدآئینی راستہ ہے ، یہ راستہ بھی فی الحال بندہی سمجھیں۔اس لئے ابھی ہم پراعتماد طریقے سے کہہ سکتے ہیںکہ صدرکیخلاف مواخذہ یاوزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ذریعے پیپلزپارٹی کواقتدارکے ایوانوں سے باہرنہیںکیاجاسکتا ۔ توپھرکیاطریقہ ہوسکتاہے کہ امریکہ جس کے ذریعے اپنے مقاصدحاصل کرسکتاہے ، ابھی خودامریکہ کوبھی شاید کچھ سجھائی نہیںدے رہا، سفارتکاری میںماہررچرڈہالبروک اورفوجی امورکے منجھے ہوئے کھلاڑی ایڈمرل ملن کی ناکامی سے امریکی منصوبہ سازوں اورصاحبان اقتدار کو ایک فون یاچندملاقاتوںسے حسب منشاءنتائج حاصل نہ ہوسکے تومجبوراًانہیںعقل کے گھوڑے دوڑانے پڑرہے ہیں ۔ فی الوقت تویہی بات ذہن کولگتی ہے کہ امریکہ کے بڑے حکومتی اذہان کسی گہری سازش کے ذریعے کوئی بڑاکھیل کھیلنے کی کوشش کرینگے۔اس کاایک اشارہ سابق امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجرکی گفتگوسے ملتاہے ، ہنری کسنجر وہی موصوف ہیںجنہوںنے ذوالفقارعلی بھٹو کوعبرت کانشان بنانے کی دھمکی دی تھی اورپھرگڑھی خدابخش کی مٹی نے ایک عظیم لیڈرکونگل لیا۔ اب پھروہی ہنری کسنجر گویا ہوئے ہیںکہ” ہم ایک ایسی پاکستانی جمہوری حکومت کوکہاںتک سنبھالادیںجواندرونی بدنظمی اور شدت پسندوںکے ساتھ جنگی کیفیت میںہے ۔“ مزید کہاکہ ” اگرپاکستان کے ٹکڑ ے ہوجائیںاوروہ ایک ناکام ریاست بن جائے توہمیںتمام متاثرہ ممالک جن میںچین ، بھارت اورروس شامل ہیںسے رجوع کرنا پڑے گاکہ وہ اس مسئلے کاکوئی حل نکالیں“ اورکہتے ہیں ” جس ملک کے پاس بے شمارایٹمی ہتھیار ہوں اوروہاں حکومت نہ ہو تویہ بات عالمی برادری کیلئے باعث تشویش ہے ۔“&lt;br /&gt;سابق امریکی وزیرخارجہ پاکستان کوایک عظیم لیڈرسے محروم کرنے کاتجربہ رکھتے ہیںاس کے علاوہ بھی وہ کافی تجربہ کاررہے ہیں لیکن بھٹو کو عبرت کانشان بنانے کاتجربہ کم ازکم جنوبی ایشیایاتیسری دنیاکیلئے بہت بڑاگھائوہے ۔ بہرحال اب یہ موصوف نئے راستوں اور منزلوںکی نشاندہی کررہے ہیں تواسے معمولی سی بات نہ سمجھاجائے۔اس کوزیادہ سے زیادہ سنجیدگی سے لیاجاناچاہیے تاکہ ہم معاملات کوسنبھالنے میں کامیاب ہوسکیں۔یہ توطے ہے کہ امریکی اب موجودہ سیاسی سیٹ کوآگے چلنے نہیںدیناچاہتے اوراس کیلئے وہ کوئی ایسا قابل قبول طریقہ ڈھونڈنے میںلگ گئے ہیں جس پر مہذب دنیا کی طرف سے کم سے کم تنقید کاسامنا کرنا پڑے اوروہ کوئی معقول جوازپیش کرسکیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرہ اس صورت میںہوگاجب وہ کوئی معقول جوازتلاش کرنے میںناکام ہوگئے تووہ پاکستان میںایک بڑا کھیل کھیلنے کی کوشش کرینگے، آپ دیکھیں لیںکہ بلوچستان نئی کروٹ لے رہاہے ، اورقبائلی علاقہ جات میںجوآگ بھڑک رہی اس کے پیچھے جہاںکچھ اپنے نادانوں کی کارستانی ہے، وہیں امریکہ ، بھارت اوراسرائیل کے ساتھ ساتھ اب روس بھی اپناحصہ ڈالنے کیلئے حرکت میں آچکا ہے ۔یہ بحث پرانی ہوچکی ہے کہ روس گرم پانیوں تک پہنچناچاہتاتھایانہیںلیکن یہ بات تو طے ہوچکی ہے کہ بڑی طاقتوںکے درمیان گوادر پورٹ اورگریٹر بلوچستان کیلئے جنگ کاآغازہوچکا ہے اور یہ آغاز پاکستان کے مستقبل کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا ۔ اب بات گریٹرپختونستان سے گریٹر بلوچستان تک پہنچتی جارہی ہے۔&lt;br /&gt;موجودہ حالات میںہمیں یقین ہے کہ امریکہ کسی پرویز مشرف کی تلاش میںہے لیکن اس بارانہیںکوئی پرویزمشرف ملنے والانہیںہے ۔اوریقیناآخری بار ہمیںیہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان اورپاکستانی اس آگ کے دریا کوعبور کریں گے یاڈوبیں گے ۔اورایک بارپھرہمیں یقین ہے کہ ہم دریاپارکرجائیںگے۔بس اجتماعی ہمت اورحوصلے کی ضرورت ہے ۔ہم اس بارایوب ویحییٰ ،ضیاءومشرف سمیت کوئی میرجعفر کامیاب نہیںہوسکے گااورتمام میرجعفرں اور میرصادقوںکوہم یہ سوچنے پرمجبورکردینگے کہ اب ان کاکوئی وارنہیںچلے گا۔ یاد رکھیںکہ جب ہم پاراتریںگے توپھران ڈکٹیٹروں کی حالت یہ ہوگی کہ&lt;br /&gt;جڑوںمیںپی©ڑکی تیزاب ڈالنے والا&lt;br /&gt;پڑاہے سوچ میںیہ پھول پھل گیاکیسے؟&lt;br /&gt;ہم یہ دن ضروردیکھیںگے۔بس آخری باریہ فیصلہ کریںگے کہ آگ کادریاپارکرناہے اورپاراترنے تک ایک دوسرے کاہاتھ نہیںچھوڑنا۔ سولہ کروڑ پاکستانیوںکے بتیس کروڑہاتھ یقیناہرطوفان کوروک سکتے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6091542990551693712-2300808703669770521?l=vop-voicepakistan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/feeds/2300808703669770521/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/2300808703669770521'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6091542990551693712/posts/default/2300808703669770521'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://vop-voicepakistan.blogspot.com/2009/05/blog-post.html' title='آخری بار ،آخری فیصلہ'/><author><name>Afzaal Khan</name><uri>http://www.blogger.com/profile/17233152306046195053</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='30' height='32' src='http://2.bp.blogspot.com/_Xe-dkT1TmdM/She1e-Vt2TI/AAAAAAAAAAM/7VKFQtO1Yb8/S220/afzaal+.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry></feed>
