Tuesday, 21 July 2009

آنسو


افضال خان

وہ میرے سامنے کئی بارپہلے بھی روئی تھی ....میںسمجھ جاتاہے کہ اس کے آنسوخوشی کے ہیں، غم کے یاپھرندامت کے ،لیکن آج دوگہرے نیلے سمندروںسے نکلنے والی نہریںاس کے گالوںکی چمکدارزمین میںپڑے خشک ڈمپل بھرتی ہوئی میرے سینے پرآبشارکی طرح گررہی تھیں۔ان آنسوئوںکو کوئی نام دینا میرے لئے ناممکن ہوتاجارہاتھا۔وہ میرے سینے پرسررکھے مسلسل آنسوبہارہی تھی اورمیںنجانے کیوںان آنسوئوںکو کوئی نام دیناچاہتا تھا۔میرے لئے یہ زیادہ اہم نہیںتھاکہ وہ رورہی ہے ،میرے لئے زیادہ اہمیت تواس بات کی تھی کہ کسی کے جذبات کوجانچنے کے میرے سارے تجربات ناکام ہوتے دکھائی دے رہے تھے ۔ ....وہ مسلسل خاموش آنسوبہارہی تھی اوریہ آنسومیرے سینے پرگرنے کی بجائے دل پرگررہے تھے۔ماںجی کہتی ہیں”جوآنسودل پرگرتے ہیںوہ روح کے آئینے کودھوکرشفاف کردیتے ہیں.... یا پھر دل پرایسے زخم لگاتے ہیںکہ یہ زخم سداہرے رہتے ہیں“ .... روح اس کی شفاف ہورہی تھی اوردل میراگھائل ہورہاتھا۔کیونکہ روح کوشفاف کرنے کیلئے اپنے آنسوئوںکاہوناضروری ہوتاہے ۔”سوری“....اس نے سرگوشی کی ،مجھے یوںلگا جیسے سناٹاچھائے جنگل میںکسی درخت سے کوئی پتاگراہو اوراس کی سرسراہٹ جنگل میںہرذی روح نے محسوس کی ہو۔”سوری ....میں وعدہ توڑرہی ہوں“وہ کوئی وعدہ توڑنے کی بات کررہی تھی اورمیرادماغ جواس کی کیفیات کاعنوان تلاش کرنے کیلئے خیالات اورسوچوںکے اندھے اوراندھیرے غارمیںبنے تار عنکبوت میںالجھ کررہ گیاتھایکدم اسے روشنی کی کرن نظر آئی ۔.... کوئی عنوان مل رہاتھا....خاموشی ٹوٹ رہی تھی ۔”سوری میںوعدہ توڑرہی ہوں“خیالات کے گھنے جنگل میںزبان کے درخت سے الفاظ کاصرف ایک پتاگرنے سے میںاس کے لہجے اور کیفیات کوپہچاننے کی پوزیشن میںآگیاتھا،....اس کے لہجے میںندامت نہیںتھی ....معذرت تھی ،مجھے پہلی بارمحسوس ہواکہ ندامت اورمعذرت میںبہت باریک سافرق ہوتاہے لیکن دونوںکیفیات یاجذبے اپنی جگہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔”میںنے جان بوجھ کرنہیںتوڑا....بس ٹوٹ گیا....وعدہ ٹوٹ گیا“اس کے لہجے میںمعصومیت تھی اورجھوٹے آدمی کے لہجے میںمعصومیت ہوہی نہیںسکتی ،وہ سچ کہہ رہی تھی لیکن یہ ایک ایساسچ تھاجس سے میںنظریںچراناچاہتاتھا....
جومجھے نئی منزلوںکامسافر بنانے والاتھا....اورمیںنئی منزلوںکامسافربننے سے ہمیشہ خوفزدہ رہاہوں۔میںسمجھ گیاتھاکہ وہ کون ساوعدہ توڑنے کی بات کررہی ہے لیکن میںانجان بن رہاتھا،انسان بھی بہت عجیب ہوتاہے کہ کبھی کوئی خواہش کرتاہے اورجب خواہش پوری ہونے لگتی ہے تومصلحتوںکی ردااوڑھ لیتاہے ،اورمیںاس وقت مصلحتوںکی ردامیں خود کو لپیٹ رہاتھا ،مجھے یوںلگ رہاتھاکہ جیسے میں بکھر جائوں گا.... اور میںبکھرنانہیںچاہتاتھا....کیونکہ میںجانتا تھاکہ جو وعدہ توڑرہی ہے اسے بکھری ہوئی چیزیں اور لوگ اچھے نہیںلگتے تھے ....”مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے “اس نے باتوںکا سلسلہ دوبارہ شروع کیاتومیںایک بارپھرخیالات کے بھنورسے باہرنکل آیا،وہ کہہ رہی تھی کہ اسے مجھ سے محبت ہوگئی ہے ،کتنی عجیب بات ہے کہ کبھی انسان محبت کوڈھونڈتاہے اورکبھی محبت انسان کوڈھونڈتے ہوئے اس تک پہنچ جاتی ہے ۔ اور محبت مجھ تک پہنچنے کی کوشش کررہی تھی اورمیں دور ہونے کی ۔”میںجانتی ہوںکہ تمہیںاچھانہیںلگاہوگا،.... ہم نے وعدہ کیاتھانا....کہ دوستی کی لکیرکوکبھی پارنہیںکرینگے لیکن انجانے میںمیںاس لیکرکوپارکرآئی ہوں،میں جانتی ہوںکہ تم تعلقات کے درمیان حدودکی لکیریں کھینچتے ہو....میںطویل عرصہ کوشش کرتی رہی ہوںکہ وعدوںکی پاسداری کروں....ایم سوری “مجھے اندازہ نہیںتھاکہ وہ بہت طویل عرصے سے محبت کے جذبات کوخوف کے پنجرے میںقید کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ....اسے ناسمجھ تھی ، اسے معلوم ہی نہیںتھاکہ محبت کوئی پرندہ نہیںہوتاکہ جس کوقید کیاجاسکے ....محبت توایک جذبہ ہے ....اورجذبات کبھی قیدنہیںکئے جاسکتے ۔کوئی بھی قید نہیںکرسکتا....اوروہ توایک کمزوراورمعصوم سی لڑکی تھی ....اس نے اتناعرصہ خودسے جنگ کی یہی بہت تھا،مجھے تویقین ہے کہ وہ اندرسے اس قدرکرچی کرچی ہوچکی ہے کہ خودکوجوڑنے کیلئے اسے آنسوکی ضرورت تھی ،اوروہ مسلسل آنسوبہا رہی تھی ۔”آپ نے سائرہ کواسی بات پرچھوڑاتھاکہ وہ دوستی کی حدودکراس کرنے کی کوشش کررہی تھی ....کیامجھے بھی چھوڑدینگے؟“وہ جانتی تھی کہ میںنے سائرہ کوچھوڑاتھالیکن سائرہ کی بات اورتھی ....وہ یہ بھی جانتی تھی کہ میںاسے نہیںچھوڑسکتا....لیکن پھربھی اسے ڈرتھا ، فصل تیارہوجائے توطوفانوںکاڈردلوںدماغ پرمسلط رہتاہے ،شایداسے محسوس ہورہاتھاکہ اس کی محبت کی فصل تیارہے ....لیکن میںمحبت نہیںکرسکتاتھا، کیونکہ یہ خیال میرے ذہن پرہمیشہ مسلط رہاہے کہ میںمحبت افورڈنہیںکرسکتا....یہ بھی کتنی عجیب بات تھی کہ میںمحبت افورڈنہیںکرسکتاتھا....میںسوچتاتھاکہ جومیںافورڈنہیںکرسکتاتھاکیاو ہ محبت تھی یافطری ضرورت ....جوبھی تھامیںنے ذہن پرکبھی زیادہ زورنہیںدیا۔وہ ایک بات کرتی تھی تومجھے یوںلگتاتھاکہ اس ایک بات نے مجھے اٹھاکرخیالات کے عمیق سمندرمیںپھینک دیاہو....پھرکوئی اگلی بات میرا ہاتھ تھام کرمجھے سمندرسے نکالتی تومیںکچھ دیرکیلئے سکھ کاسانس لیتا....”تم خفاہو....“سکھ کے لمحات ایک بارپھرختم ہورہے تھے ....وہ مجھے پھرسمندرمیںپھینک رہی تھی ۔میںتنگ ہورہاتھا....میںجب تنگ ہونے لگتاہوںتوپھرسب کچھ چھوڑکرکہیںدورنکل جاناچاہتاہوں....اس وقت تومیںبہت دورنکل جاناچاہتاتھا....”مجھے آفس پہنچناہے“میںنے اٹھنے کی کوشش کی تواس نے اپناسرمیرے سینے سے اٹھالیا....اس کی جواب طلب نظروں کونظراندازکرتے ہوئے میںکمرے سے تیزی سے باہرنکل اورگاڑی کاانتظارکئے بغیرآفس کی طرف پیدل چل پڑا۔تھوڑی دیربعدجب میںتھک گیاتب مجھے محسوس ہواکہ میںپیدل آفس جارہاہوں۔دماغ حاضرنہ ہوتوانسان فیصلہ کرسکتاہے نہ فاصلے طے کرسکتا، یہ بات میںجانتاتھالیکن سکھ کے لمحات میںتمام باتیںیاد رہتی ہیںاوربھلی بھی لگتی ہیں،....جب جان پربنی ہوتوکچھ یاد نہیں رہتا .... اور جب سے اس نے وعدہ توڑنے کی بات کی تھی میری توجان پربنی تھی ۔میںقریبی سٹا پ پرپہنچااورگاڑی میںبیٹھ کرآفس پہنچ گیا۔حلیے کے ساتھ ساتھ خیالات بھی الجھے ہوںتوانسان کسی محفل میںنہیںبیٹھ سکتا....میرابھی یہی حال تھا،آفس پہنچ کربھی ذہنی طورپرآفس میںنہیںتھاایسی صورتحال میںزیادہ دیرآفس میںرہنامیرے لئے اچھانہیںتھا....کیونکہ چندکولیگ مجھے سلجھاہواانسان سمجھتے تھے لیکن اس وقت تومیںبہت الجھاہواتھا....میںنہیںچاہتاتھاکہ کوئی مجھ سے اس الجھائوکے بارے میںبات کرے ۔میںآفس سے باہرنکل آیا،کچھ دیریونہی چلتارہا، سوچوںمیںگم انسان کواپنے آس پاس کاہوش نہیںہوتا، مجھے بھی نہیںتھا، میرے ہاتھ میںپکڑے موبائل کی بیل مسلسل بج رہی تھی اورمیںخودکلامی میںمصروف تھا، ہوش تومجھے اس وقت آیاجب پیچھے سے آنے والی کوسٹرنے اچانک بریک لگائے کیونکہ میںروڈکے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے درمیان میںآگیاتھا۔بریک اورہارن کی آوازنے مجھے چونکادیا،میںایک سائیڈپرہوا،کوسٹرکا ڈرائیور شریف اس نے مسکراکرمیری طرف دیکھااورایکسی لیٹرپرپائوںرکھ دیا،شایدوہ بھی ان حالات سے گزراتھایاواقعی شریف آدمی تھا،میرے ہاتھ میںپکڑاموبائل کی بیل مسلسل بج رہی تھی اورمیںنے نمبردیکھاتواسی کاتھا....”ہیلو“میںنے فون کوکان سے لگاکرکہا،”کہاںہو؟“اس نے پوچھا،میںاسے کیابتاتاکہ کہاں....میںتوکہیںبھی نہیںتھا۔مجھے جگہ توکیااپنے آپ کاپتانہیںچل رہاتھا۔ ”پتانہیں“میںجومحسوس کررہاتھاوہی کہہ دیا....”کیوںپتانہیں، میںتمہارے آفس آئی تھی اورتم آفس سے نکل چکے تھے ، ساحل کہاں ہواس وقت ؟پلیزبتائو....“اس کالہجہ رودینے والاہوگیا،....”تم جانتی ہومیںسچ بول رہاہوں،پھربھی اصرار کررہی ہو“....”ہوش میںآئوساحل ،خداکیلئے اس بات کوذہن پراتناسوارنہ کرو،پلیزبتائوکہاںہو“....اس نے کہاتھاتومیںکیسے ہوش میںنہ آتا، میںنے اس کی بات کب ٹالی تھی ....جواب ٹالتا،میںنے اپنے آس پاس دیکھااوربتایاکہ میںآبپارہ کے پاس ہوں۔”وہیںٹھہرو....میںآرہی ہوں“اورمیںٹھہرگیا....میرے لئے تووقت ٹھہرچکا....گھڑی کی سوئیاںٹک ٹک کرتی تھیں،چلتی نہیںتھیں۔یوںلگتاتھاکہ گھڑی خراب ہوگئی ہے ،....کیونکہ میری جوگھڑی بیت رہی تھی وہ توخراب ہی بیت رہی تھی ،اس لئے مجھے توایساہی لگناتھا۔میںآبپارہ کے قریب ایک سائیڈپرکھڑاتھاکہ ایک ٹیکسی میرے قریب آکررکی،وہ نیچے اتری اورمیری قریب آگئی ،....”چلو“اس نے کہااورچلنے لگی میںبھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔مجھے یوںلگ جیسے میںکوئی چھوٹاسابچہ ہوں،اس کودیکھتے ہی میںمیراذہن یک دم خالی ہوگیاتھا، اورمیںکسی ربوٹ کی طرح اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔وہ قریبی پارک میںجارہی تھی اورمیںبھی اس کے ساتھ ساتھ تھا،وہ ایک گھنے درخت کے سائے تلے بیٹھ گئی اورمیںبھی ۔گھنی چھائوں میںبیٹھ کربھی مجھے یوںمحسوس ہورہاتھاکہ میںجھلس رہاہوں،ایک آگ تھی جومیرے تن بدن کو جھلسا رہی تھی ۔”تم خفاہومجھ ....میںجانتی ہوں“اس نے ایک بارپھرمجھے سمندرمیںپھینک دیا.... اورمیںخیالات کے سمندرمیںغوطے کھانے لگا۔میراذہن جوکافی دیرسے بالکل خالی تھااچانک سوچوںکے جھکڑچلنے لگے، مجھے یوںلگاجیسے ربوٹ میںروح پھونک دی گئی ہو۔”تم انکارکرسکتے ہو ....لیکن پلیزمجھ سے خفامت ہونا،میںتم سے دوررہ کرجی لوںگی لیکن تم خفاہوئے تومرجائوںگی“اس بارمیںنے سمندرسے نکلنے کیلئے اس کاسہارالینے سے انکارکردیااورخودہی سمندرسے نکلنے کافیصلہ کرلیا۔....”کیاہم صرف دوست نہیںرہ سکتے ؟“میںہمت کرکے کہا،”تم نے سنانہیںکہ محبت ہوجائے تودوستی پراکتفانہیںکیاجاسکتا“....اس نے مجھے پھرسمندرمیںپھینکنے کی کوشش کی ،لیکن میںنہ اس باراپنے پائوںمضبوطی سے جمالئے ۔”تم جانتی ہوکہ میںدوستی سے آگے نہیںبڑھ سکتا،اس لئے میںصرف دوست ہی رہ سکتاہوں“مجھے محسوس ہواکہ میرے لہجے میںکچھ سختی اورتلخی آگئی تھی ۔”اب میرے لئے ایساممکن نہیںہے ،میںجس منزل پرپہنچ چکی ہوںوہاںسے واپسی کامطلب موت ہے ،تم چاہتے ہوکہ میںمرجائوں“وہ دانستہ یاغیردانستہ طورپرمجھے جذباتی بلیک میل کررہی تھی ....وہ ایک بارپھرجواب طلب نظروںسے میری طرف دیکھ رہی تھی اورمیںآخری باراس سے نظریںچراکراٹھااورپارک سے باہرچلاآیاا

0 comments:

Post a Comment

aa