Monday, 25 May 2009

مت جائیو!سید پورگراں


سیدرسول ترگوی



” سید پورگراں“کی خوبصورتی کے چرچے اکثر و بیشتر سننے اور پڑھنے کوملتے تھے جس سے اشتیاق بڑھ رہا تھا کہ اسے دیکھا جائے۔ افضال بھی کافی عرصے سے کہہ رہا تھا کہ ٹائم نکال کر چلتے ہیں بڑا اچھا ماحول ہے اوردیکھنے کی جگہ ہے، خیر جیسے تیسے گزشتہ ہفتے کے روز دفتری کام نمٹاکرافضال کوفون کیا کہ آ جائو آج اس خواہش کا تیا پانچہ کر ہی لیتے ہیں۔ چنانچہ مقررہ وقت اور جگہ پر اکٹھے ہوئے اور عازم ِسید پور گراں ہوئے۔ میرے خیال میںیہ مقام اسلام آباد کے پوش علاقے سے نکل کر کافی آگے ہوگا اور لمبی ڈرائیو ہوگی مگر وہاں پہنچے تو یہ علاقہ عین اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے پہلو میں دیکھ کر حیرت ہوئی۔ ہم زیرو پوائنٹ سے سیدھے فیصل مسجد ایونیو کی طرف روانہ ہوئے ۔ظفر چوک پہنچ کر دائیں ہاتھ بڑی شاہراہ پر سیدھے ہوگئے۔ تربت روڈ چوک کو کراس کیا تو آگے ذو شروع ہو گیا اور ساتھ ہی سید پور گراں کو مڑنے والے راستے کا بورڈ آنے والے کو خوش آمدیدکہہ رہا ہے مگر اس سے دس قدم پہلے ایک بڑا اور بوڑھا بوہڑ کا درخت اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے اور آپ کو الرٹ کر تا ہے کہ گھبرائیے نہیں آپ منزلِ مقصود پر آ پہنچے ہیں، اسی بوڑھے بوہڑ کے پہلو سے بائیں جانب مڑتے ہی بے ساختہ سی ڈی اے کےلئے کلمہ خیر نکلتا ہے کیونکہ گزشتہ چند برس میں سی ڈی اے نے جس نیک نیتی سے اسلام آباد کو ایک دارالحکومتی میعار کے مطابق خوبصورت بنانے کی کوششیں کی ہیں وہ لائق تحسین ہیں ،اسلام آباد کے طول و عرض میں آپ جہاں بھی چلے جائیں ترقیاتی کام بڑی تیزی سے ہورہے ہیں اور خصوصاً پارکوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ایکڑوں پر پھیلے جنگلی توت کو صاف کر کے وہاں واک ٹریک بنا دیئے گئے ہیں اور پہلے سے موجود سیرو سیاحت کے مقامات کو جدید طرز پر اپنی ثقافت کو نہ صرف نکھار دیا گیا ہے بلکہ آنے والی نسل کے لئے محفوظ بھی بنا دیا گیا ہے۔ شکر پڑیاں ہو ¾ زیروپوائنٹ مانومنٹ ہو ¾ راول ڈیم کا پرانا پارک ہو یا راول جھیل کے دوسرے کنارے پر لیک ویو پارک ہو ¾ جی نائن پارک ہو یا دامن کوہ یا سید پور گراں ہر جگہ بلا شبہ سی ڈی اے نے فنی صلاحیتوں کو خوب استعمال کیا ہے۔ سید پور گراں اسلام آباد کے پہلو میں ایک تاریخی گراں ہے اور اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔ آپ جب وہاں پہنچیں گے تو یقیناً آپ کو اپنا یہاں آنا ضائع محسوس نہیں ہوگا لیکن ایک پہلو ضرور ایسا ہے جس نے مجھے اس کالم کے لکھنے پر مجبور کیا ۔اس ویو پوائنٹ اور سید پور گراں کا اپنا پرانا بازار بھی ہے جہاں کھانے پینے کی چیزیں روٹین کی مارکیٹ قیمتوں کے مطابق ہیں ۔چائے پئیں کھانا کھائیں یا کولڈ ڈرنگ لیں انیس بیس کے فرق سے قیمتیں ایک جیسی ہیں لیکن ویو پوائنٹ کے قلب میں ایک عدد ریفرشمنٹ پوائنٹ ہے۔ جسے اسلام آباد کے دو فائیو سٹارز ہوٹل کے ایک گروپ نے سنبھال رکھا ہے ہر آنے والے کو با امرِ مجبوری اس سے واسطہ پڑتا ہے ایک دو اور ریفریشمنٹ پوائنٹ ہیں لیکن وہ عموماً نظروں سے اوجھل رہتے ہیں ایک تو بالکل داخلی راستہ کے قریب ہے اور دوسرا بالکل اوپر پہاڑی پر ہے جو ڈھونڈنے سے نظر آتا ہے جس پوائنٹ کا ذکر ہورہا ہے یہ مرکزی جگہ پر ہے تھوڑی سی ہائٹ پر ایک مختصر جگہ ٹیبل لگا دیئے گئے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ یہ ایک ایسا اونچا دکان ہے جس کے پکوان کے بارے اردو امثال بنانے والوں نے جو کچھ کہا ہے وہ ہزار ہا فیصد درست کہا ہے ہم گھوم پھر کر آخر میں غلطی سے اسی اونچے دکان پر جا بیٹھے کہ تھوڑی دیر کےلئے سستا لیں، ہم” پینڈو“ لوگوں کےلئے سستانے کے موقع پر چائے کا ایک کپ ہی ریفریشمنٹ کا واحدسامان ہوتا ہے چنانچہ اپنی فطری کمزوری کے ہاتھوں ویٹر کو دو کپ چائے کا آڈر ہی دے دیا۔ وہ اگلے لمحے دو گرم گرم کپ ہمارے سامنے رکھ کر اِدھر اُدھر ہوگیا ،کپ ڈیزائن کے لحاظ سے خوبصورت تھے ان کی بناوٹ پر گفتگو ہوئی، کپ میں پڑی چائے پر دو دھ کی جھاگ کی ایک دبیز تہہ نظر آئی افضال نے کہاکہ لگ تو اچھی رہی ہے ،میں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور دوسری طرف متوجہ ہو گیا اتنے میں افضال نے کپ اٹھا کر چسکی لگائی تو کہنے لگا صرف جھاگ ہی ہے نیچے چائے تو ریلوے سٹیشن والی ہے میں بھی متوجہ ہوا کپ اٹھایا چسکی لگائی تو افضال سے کہا یار اونچے دکانوں پر اسی طرح کے پکوان ہوتے ہیں۔ خیر باتوں باتوں میں جیسے تیسے چائے پی لی کیونکہ طلب بڑھی ہوئی تھی، تھوڑی دیر بعد ویٹر نے ٹیبل کاطواف کیا اس سے پوچھا کہ کتنے پیسے ہوئے۔ قبل ازیں ہم اندازہ کررہے تھے کہ عام مارکیٹ میں دس روپے کا کپ ہے یہاں زیادہ سے زیادہ بیس روپے میں ہوگا یا تیس روپے میں ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں سیاحتی مقامات پر عموماً دگنا ریٹ ہوتا ہے کولڈ ڈرنک اگر مارکیٹ میں پندرہ روپے میں ہے تو وہاں تیس روپے کی ملے گی یا 25روپے میں۔ اسی طرح دیگر کھانے پینے کی چیزوں کا حال ہوتا ہے ہم بھی اسی توقع کے ساتھ بیٹھے تھے لیکن ویٹر نے دو کپ چائے کی قیمت جتنی بتائی وہ کسی بڑے سے بڑے جھوٹ سے بھی زیادہ نکلی ۔ہم دونوں ایک دفعہ چونک سے گئے کہ شاید ویٹر مذاق کررہا ہے لیکن ویٹر کی سنجیدگی نے ہاتھوں کے طوطے اڑا دیئے، اسی عالم میں ایسے ادائیگی کر دی جیسے کہتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں ایسے دو کہ اگر دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے ۔اوپر سے ویٹر نے یہ احسان بھی چڑھا دیا کہ اوپر والے 12 روپے نہ دو آجکل یہ رعایت چل رہی ہے۔ اتنی بے تکی قیمت پر ویٹر سے مزید تفصیل جانی تو” تراہ“ نکل گیا ۔اس نے مینوکارڈ ہمارے سامنے رکھا کہ جناب خود پڑھ لیں میں مذاق نہیں کررہا۔ جتنے بھی ریٹ تھے وہ تمام کے تمام اچھے بھلے آدمی کے پسینے چُھوٹانے کےلئے کافی تھے مثلاً مارکیٹ میں نان سات روپے کا ہے جبکہ وہاں تیس روپے سکہ رائج الوقت وصول کئے جارہے ہیں۔ صحافتی عادت کی وجہ سے ویٹر سے دیگر معلومات حاصل کر لیں کہ کون اس کا مالک ہے اور یہ کہ ریٹ کون مقرر کرتا ہے۔ باتوں باتوں میں ویٹر سے پوچھا کہ کتنی دیہاڑی یاتنخواہ ملتی ہے کہنے لگا بلیو ایریا کے کئی بڑے بڑے ریستو رانوں کے ویٹرز سے دوگنا ملتی ہے ہم نے کہا کیسے تو کہنے لگا بلیو ایریا کے بڑے بڑے ریستورانوں پر کام کر نے و الے ملازموں کو کئی بار ساٹھ ستر روپے روزانہ پلے سے دینا پڑتے ہیں۔ اس نے جتنی دیہاڑی بتائی تو ہم نے کہا کہ یہ تو پھر آپ کی دیہاڑی یہاں کی چائے کے دو کپوں کی مار ہے، اسے دو نفلوں کی مار والا لطیفہ یاد آگیا اور خوب کھلکھلا کر ہنسا ۔ہم نے اجازت چاہی اور اپنے آپ کو کوستے ہوئے وہاں سے نکل آئے، وہاں سے نکلے تو مجھے ایک اورلطیفہ یاد آگیا ”کسی کو خواب کے عالم میں فرشتے جنت اور دوزخ کی سیر کراتے ہیں جنت کی سیر کے بعد اس نے فرشتے سے کہا کہ جناب اس دیوار کے پار کیا ہورہا ہے فرشتے نے کہاکہ ادھر دوزخ ہے ا سے مت دیکھئیو۔لیکن وہ ضد کر کے جھانک کر دیکھتا ہے تو دوزخیوں کی چھترول سے چیخیں نکل رہی تھیں وہ فوراً دیوار سے اترتا ہے اورکانوں کوہاتھ لگا کر کہتا ہے کہ ا تنا نہ مارو....اتنا مارو گے تو پھر یہاں کو ن آئے گا ؟۔ اب ذرا آپ ہی فیصلہ کریں اور ایک کپ چائے کا ریٹ سن لیں ۔پاکستان کی موجودہ کرنسی جس پر لکھا ہوتا ہے رزق حلال کمانا عین عبادت ہے، میں106روپے فی کپ وصول کئے جارہے ہیں۔ یوں ہم نے12 روپے کے احسان کو منہا کر کے 200روپے دو کپ چائے کے ادا کئے اس سے آگے کیا لکھوں ۔نو دولیتوں کےلئے تو دو سو روپے بارے سوچنا بھی گناہ ہوگا لیکن ہم جیسے لوئر مڈل کلاسیئوں کو کیاسیدپور گراں جانا چاہیے؟ تو آپ کا جواب اس لطیفے والے کی طرح ہوگا کہ جب اتنامارتے ہیں اورپوچھنے والا بھی کوئی نہیں تو پھروہاں کیوں جائیں ؟ اسی لئے میں اپنے کالم کا عنوان” مت جائیو سید پور گراں“ دینے پر مجبور ہوا۔ سی ڈی ا ے کی تزئین و آرائش پر کی جانے والی محنت اپنی جگہ لیکن اونے پونے داموں لیز دی جانے والی جگہ پرلوٹ مار بھی اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔کیوں آپ کیا کہتے ہیں؟

0 comments:

Post a Comment

aa