Thursday, 28 May 2009

کبھی کبھی میںسوچتاہوں


کبھی کبھی میںسوچتاہوںکہ انسان آج سے ہزاروںسال پہلے کی آوازکوواپس لے سکے توکیاہو؟لوگ کیابولتے تھے، کیوںبولتے تھے اورکیاسوچتے تھے ،اورکیوں‌سوچتے تھے، کیاسوچتے تھے ۔ یہ بات کسی کتاب ، کسی گمشدہ تحریرکی بازیابی، کسی کھنڈرکے ملنے سے سمجھ نہیں‌آسکتی۔ لہجہ بہت بڑی چیز ہے ، آوازکااتارچڑھائوبہت اہم ہوتاہے، سوچوںکاجواندازلہجے اورآوازکے زیروبم سے معلوم ہوتاہے وہ کبھی کسی تحریرسے شایدہی معلوم ہوتا ہو۔آپ میری اس خواہش اوراس بات اوراس دلیل سے اختلاف کرسکتےہیںلیکن نجانے کیوںمیںاکثریہ خواہش کرتاہوں۔کبھی کبھی اس خواہش میں اتنی شدت آتی ہے کہ سردکھنے لگتاہے، اورمجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن تاریخ میں‌گمشدہ آوازیں اسی دنیاکے انسانوںکوسننے کوملیں گی۔
پھرمیں یہ بھی سوچتاہوں،کہ فرعون کی آوازسنوں!
جب وہ لوگوں کوسجدے کاحکم دیتاہے ،
جب وہ موسیٰ‌سے بات کرتاہے
جب وہ ظلم کیلئے احکامات جاری کرتاہے
جب وہ گھرمیں بات کرتاہےتوکیسے بولتاہے ، جب دربارسجاتاہے توکیا بولتاہے ،میں سناہے کہ فلاں‌کے لہجے میں فرعونیت ہے ،لیکن میں‌دونمبرنہی ایک نمبرفرعون کی فرعونیت کالہجہ سنناچاہتاہوں۔
میں نمرود کوسننا چاہتاہوں،میں ابراہیم کالہجہ سنناچاہتاہوں،
میں نوح کی وہ باتیں سننا چاہتاہوں‌جووہ اپنی قوم سے کرتے ہیں،
میں‌شعیب وعیسیٰ کی باتیں‌سنناچاہتاہوں، لہجہ سنناچاہتاہوں
سب سے بڑھ کرمیں حضرت محمدعلیہ السلام کی آوازسنناچاہتاہوں۔میں سنناچاہتاہوں جب قرآن اترتاہے ، جب صحابہ تک پہنچتاہے ، جب کسی غزوہ میں‌جاتے ہیں توکیابولتے ہیں، جب طائف میں جاتے ہیں‌اورانہیں پتھرمارے جاتے ہیں اورفرشتہ آتاہے تووہ کیسے بولتے ہیں، ان کالہجہ کیاتھا۔ میں‌خطبہ حجۃ الوداع سننا چاہتاہوں۔
میں بہت کچھ سنناچاہتاہوں۔
کبھی کبھی میں سوچتاہوں کہ یہ سب کچھ میں نہ سن سکاتوپاگل ہوجائوںگا۔
افضال خان

2 comments:

  1. امید ہے اپنی سوچ کو اسی طرح بلاگ میں ڈھالتے رہیں گے۔ ویسے ہم بھی کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ کوئی ایسا جوسوس ہو جو ایوان صدارت کے صبح و شام کی کہانی سنایا کرے۔

    ReplyDelete
  2. ماشا اللہ بہت خوب تحریر ہے

    ReplyDelete

aa