Saturday, 23 May 2009

گریٹ پاکستان

افضال خان

2009پاکستان کیلئے فیصلہ کن سال ثابت ہوگا،ایک سونامی ہے جوآرہاہے اورہرچیز کوبہالے جاناچاہتاہے ۔ ہم نے گزشتہ کالم میںیہ کہاتھا کہ بات اب گریٹر پختونستان تک نہیںرہی بلکہ گریٹربلوچستان تک آپہنچی ہے اوراس بات کوسمجھنے کیلئے افلاطون ہوناضروری نہیںہے اورنہ ہی یہ بات اب راز رہی ہے کہ سیاست کی عالمی بساط پرنئے مہرے سجائے جارہے ہیں ۔نئی حدبندیوںاوردرجہ بندیوں کاسلسلہ فائلوں تک محدود نہیںرہا۔زمینی حقائق اس بات کے شاہدہیں ۔ واشنگٹن اورکچھ مغربی دارالحکومتوںکے چند اذہان مسلسل الٹی گنتی گننے میںلگے ہوئے ہیں۔کچھ پیشنگوئیاں توہم گزشتہ چندسال سے سنتے چلے آرہے ہیں، ان کے مطابق پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے نئے نقشے کافی عرصہ قبل منظرعام پرآچکے ہیں، اب سرحدوں کی نئی حد بندی کیلئے عالمی ”پٹواریوں“ نے فیتے اپنے ہاتھوںمیں پکڑ لئے ہیں۔عالمی طاقتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کوبراہ راست ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیںکررہیں، انہیں آگاہی ہے کہ ایٹمی پاکستان کے پاس دنیاکی ایک بہترین فوج بھی ہے اگرچہ اس فوج کے کچھ مسائل ہیںجنہیںحل کرناضروری ہے لیکن پھربھی ایک بڑی اورتربیت یافتہ فوج اگرتمام تر مصلحتوںکوٹھکراکرسامنے کھڑی ہوگئی تواسے دوبدو شکست دیناآسان نہیںہوگا، عالمی منصوبہ ساز اس بات کواچھی طرح جانتے ہیںکہ انہیںپاکستان میں عراق اورافغانستان سے بالکل منفردحالات کاسامنا کرنا پڑے گا،آپ کویادہوگاکہ جب امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میںآئی تھیںتوانہیںپھولوںکے ہار پہنائے گئے تھے ، کرائے کے لوگوںاورکچھ این جی اوز کے کارندوں نے یہ سارا ڈرامہ عراق میںبھی رچایا تھا ، وہاںبھی امریکہ اور اتحادی افواج پرپھولوںکی پتیاں نچھاور کی گئیںاوران کے گلے میںپھولوں کے ہارپہنائے گئے ،جنہیںمغربی میڈیانے کامیابی کے طورپرپیش کیاتھالیکن پاکستان میںایسانہیںہوگا، ایساکرنے کی جرا¿ ت تو کوئی این جی اویاامریکہ کے زرخریدغلام بھی پاکستان میں نہیں کر پائیںگے۔ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ امریکہ کیخلاف جتنی شدید نفرت اس وقت یہاں پائی جاتی ہے شایدہی کہیںاورپائی جاتی ہواورجتنی شدت سے پاکستانی امریکہ کے خلاف کھڑے ہونگے شاید ہی کسی اورملک کاباشندہ کھڑا ہو۔ یہاںکابچہ بچہ امریکہ کیلئے عذاب بن جائیگا۔ یہ بات امریکی دفاعی ماہرین اورانٹیلی جنس ادارے اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسی لئے وہ خفیہ راستوں سے پاکستان کو نقصا ن پہنچانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔پھرامداد کالالچ اورمشکلات کاخوف دے کرحکمرانوں سے کچھ من پسندفیصلے کرالیتے ہیں۔آئی ایم ایف ، ورلڈبنک اورامریکی امداد وہ گھن ہے جو پاکستان کوکھاگیاہے ، عالمی طاقتیںکبھی بھی پاکستان کو پائوںپرکھڑاہونے دینانہیںچاہتیں۔اس وقت بھی امریکہ کی” سیکرٹ ٹاسک فورس“کے اعلیٰ ترین اہلکار پاکستان میںمصروف عمل ہیں،آپ دیکھ سکتے ہیںکہ ان کی منصوبہ بندیاں کس قدرکامیاب ہورہی ہیں۔ بارود کی بدبو پوراملک سونگھ رہاہے ۔ یہ بدبویونہی نہیں پھیلائی گئی ،یہ کوئی اندرونی جنگ نہیںہے بلکہ امریکہ کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ ہے ۔اگرکوئی اس جنگ کواپنی جنگ ثابت کرنے کے دلائل دینے کاشوقین ہے تووہ بتائے کہ 2001سے پہلے یہ جنگ کیوںنہیںتھی ،آج جولوگ پاکستان میںخود کش دھماکے کررہے ہیں وہ 2001 سے پہلے کہاںتھے۔یہ صرف د ہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی عطاکردہ ”سوغات “ ہے ، دوغلی امریکی پالیسیوںکاثمر ہے ، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام امریکہ کو کم ازکم اب اپنادوست سمجھنے پرتیارنہیںہورہے ۔اورجب بھی امریکہ کی طرف سے کسی نئی امداد کی بات کی جاتی ہے توپاکستان میںیہ تاثر عام ہوجاتا ہے کہ یہ کسی نئی سازش کی کڑی ہے ، اب ہم سے کوئی اورغلط کام کروایاجائیگا۔یہ تاثرصرف کتابوں ، اخباروں اورٹی وی چینلز کے تجزیوں تک نہیںبلکہ گلی کوچوںمیںانتہائی پختہ ہوچکاہے ۔اس لئے پاکستان کے حکمرانوں کوبھی یہ بات اپنے پلوسے باندھ لینی چاہیے کہ ان کی بقاعوام کے ساتھ رہنے میںہے ، عالمی طاقتیں انہیںاستعمال کرکے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیںگی ۔مثالیںآپ کے سامنے ہیں، بھٹو مر بھی جائے تو”زندہ ہے بھٹو“کے نعرے بلندہوتے ہیں اور ڈکٹیٹروںاورایک میرجعفروں کوتوشاید قبرکے کیڑے بھی کھاناپسندنہیں کرتے ہونگے۔ایسے نازک موقع پرآنکھیںکھلی رکھنے کی ضرورت ہے ، ہلکی سی سرسراہٹ کوبھی نظرانداز نہیںکیاجاسکتا۔حکمرانوں اور رہنمائوں کویاد رکھنا چاہیے کہ بے خبری اورخوش فہمی وہ بیماریاں ہیں جو قوموں کونگل جاتی ہیں، تاریخ کے اوراق سے گرد ہٹائیں اوردیکھیںکہ جب اندلس اجڑرہاتھاتوحکمران سمجھ رہے تھے کہ ابھی تک ہم نے سرحدوں کاتقدس پامال کرنے کی” اجازت“ نہیں دی اس لئے سرحدیںمحفوظ ہیں ،بغداد برباد ہو رہا تھا، حکمران بے خبرتھے،دشمن کی فوجیںگلی کوچوںمیںقتل عام کرتے ہوئے شاہی محل تک پہنچ گئیں،ہندوستان پر انگریزوں کاقبضہ ہوگیاتھااورحکمران انجان بنے بیٹھے یہ سمجھ رہے تھے کہ حکم ان کا ہی چلتاہے ، ملک ان کے ہی تابع فرماں ہے ، اورہندوستان کی سرحدیںمحفوظ ہیں۔ اس بے خبری کے جرم کی سزایہ ملی کہ سوسال تک انگریزوں کی غلامی کرناپڑی ، لاکھوںانسانوں کاقتل ہوا اوراس غلامی کے دورکے نتائج آج بھی ہم بھگت رہے ہیں۔ یہ اسی غلامی کانتیجہ تھاکہ ”سونے کی چڑیا“ کہلانے والے خطے کے لوگ پوری دنیاسے بہت پیچھے رہ گئے ، جب انگریزیہاںآئے تھے تواس وقت عالمی تجارت میںہندوستان کاحصہ پچیس فیصدسے زائد تھااورجب گئے توصرف سات سے آٹھ فیصدرہ گیاتھا، حکمرانوںکی اسی کوتاہی اورکوتاہ نظری کانتیجہ ہے کہ تعلیم وتربیت کامیدان ہو، یاسائنس وٹیکنالوجی کا ، ایجادات ودریافت کی بات ہویاستاروں پرکمندڈالنے کی ، یہ خطہ بہت پیچھے رہ گیاہے ۔پھر جب پاکستان بن گیاتب بھی اس تقسیم کے بعد کچھ زیادہ سنجیدگی سے کام نہیںکیاگیا، کبھی آئین نہیںبنااورجب بناتوپامال ہوا،ناانصافی عام رہی اورافسوس کی بات یہ کہ یہاںکے حکمرانوں نے وہی وتیرہ اپنایاجوصدیوںسے مسلم دنیا کے حکمرانوں کاتھااوربات سقوط ڈھاکہ تک پہنچ گئی ، اس وقت بھی حکمران کہہ رہے تھے کہ کچھ بھی نہیںہوا، چندشرپسندوں نے مسئلہ پیداکیاہے ان سے ہم نمٹ لیںگے۔پھر وہ وقت کسے بھولتاہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان ہوگیا۔یہ وہ دکھ ہے جوپاکستان کی نسلوں کی روحوںکومنتقل ہوتاہے اورہرپیداہونے والاپاکستانی کٹے ہوئے بازوکے ساتھ پیداہورہاہے ۔ اب ایک بارپھر ایساہی کچھ ہونے کی پیشنگوئیاںکی جارہی ہیں۔ایسی ہی کچھ منصوبہ بندیاں ہورہی ہیںلیکن اس بار بے خبری نہیںہوگی ، حکمران سوبھی گئے توسولہ کروڑپاکستانی جاگیں گے ، رہنما راستہ بھول بھی گئے توسولہ کروڑپاکستانی صراط مستقیم پرچلتے رہیںگے۔ رہبروں نے رہزن بننے کی کوشش کی توتاریخ کے پاتال میںدفن کردئیے جائیںگے۔کیونکہ اب کسی گریٹرپختونستان، گریٹر بلوچستان ، گریٹرسندھ یا گریٹرپنجاب کی سازش کامیاب ہونے نہیں دی جائیگی ۔کیونکہ ہمیںیقین ہے کہ سولہ کروڑپاکستانی اب صرف گریٹ پاکستان بنائیںگے۔

0 comments:

Post a Comment

aa