Saturday, 23 May 2009

آخری بار ،آخری فیصلہ


افضال خان

afzaal2020@gmail.com

”توپھر آصف زرداری کوپاکستان کی صدارت سے کیسے ہٹائیں؟“ یہ وہ سوال ہے جوامریکہ کے پالیسی سازوںکیلئے ان دنوںسب سے بڑی الجھن کاباعث بناہواہے۔ امریکیوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ کبھی ایسے سوالات پر زیادہ غور کرنے کے عادی نہیںرہے۔اسی لئے ان کے اعصاب معمول سے زیادہ تنائوکاشکارہیں۔اورکیوںنہ ہوں وہ جب بھی اورکہیںبھی کسی کوہٹانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیںتوہٹادیتے ہیںسوائے ان چند ممالک کے جہاں ان کا ہاتھ نہیںپڑتا۔بدقسمتی سے پاکستان کاشماران ممالک میںہوتاہے جہاںامریکیوں کاہاتھ اچھی طرح پڑتا رہا ہے ۔یہ اوربات ہے کہ اس بارانہیںکچھ مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ایک منتخب حکومت کواورچیف جسٹس کی بحالی سے بیدار ہونے والے پاکستانیوںکودبانے یافریب دینے میں کچھ ہچکچاہٹ سی محسوس کررہے ہیں ۔ دنیا بھرمیںجمہوریت کاڈھنڈورا پیٹنے والوںکیلئے ایک سالہ پاکستانی منتخب حکومت کوہٹانا جوئے شیرلانے کے مترادف ہوچکاہے ، انہیںسمجھ نہیںآرہی ہے کہ وہ موجودہ حکمرانوںسے کیسے نجات حاصل کریںاوراپنی مرضی کے لوگوں کو سامنے لے آئیں ، انہیںکسی چھوٹی سیاسی جماعت کے علاوہ کہیںسے بھی کوئی خوشی کی خبرسنائی نہیںدے رہی ، پیپلزپارٹی میںکسی بڑی بغاوت کافی الحال سوال ہی پیدانہیں ہوتا ،نوازشریف منتخب حکومت کوگرانے میں حصہ داربننے کوتیارنہیں،وکلاءکی تحریک کامیاب ہوچکی ہے اورچیف جسٹس بحال ہوچکے ہیں اس لئے وہ تحریک بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئی ، شاید اسی لئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ہم نے چیف جسٹس کوبحال کرکے پاکستان کوبچالیاہے ،موجودہ حالات دیکھ کریہ یقین ہونے لگتاہے کہ اورکچھ ہو نہ ہو چیف جسٹس کی بحالی کافوری فیصلہ جیسے بھی ہوا جس کسی نے بھی کرایااورلانگ مارچ کوختم کرانے کیلئے جس نے بھی ڈیل کی یاکرائی ،کم ازکم پاکستان کے حق میںبہترہی ہوا ہے اورجنہوںنے اپنی اناکوپس پشت ڈال کریہ فیصلہ کیاہے انہوںنے دانستہ یانادانستہ یاچاہے مجبوری سے ہی پاکستان کوبچایاہے ۔اس وقت امریکیوںکیلئے فوری طورپر کوئی نئی تحریک چلانااگرناممکن نہیںتومشکل ترین ٹاسک ضرور ہے ۔ صدرکومواخذے کے بغیرفوری طورپر ہٹا نے کاکوئی قابل قبول طریقہ نہیںہے۔پیپلزپارٹی کی حکومت کوختم کرنے کیلئے عدم اعتماد کاواحدآئینی راستہ ہے ، یہ راستہ بھی فی الحال بندہی سمجھیں۔اس لئے ابھی ہم پراعتماد طریقے سے کہہ سکتے ہیںکہ صدرکیخلاف مواخذہ یاوزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ذریعے پیپلزپارٹی کواقتدارکے ایوانوں سے باہرنہیںکیاجاسکتا ۔ توپھرکیاطریقہ ہوسکتاہے کہ امریکہ جس کے ذریعے اپنے مقاصدحاصل کرسکتاہے ، ابھی خودامریکہ کوبھی شاید کچھ سجھائی نہیںدے رہا، سفارتکاری میںماہررچرڈہالبروک اورفوجی امورکے منجھے ہوئے کھلاڑی ایڈمرل ملن کی ناکامی سے امریکی منصوبہ سازوں اورصاحبان اقتدار کو ایک فون یاچندملاقاتوںسے حسب منشاءنتائج حاصل نہ ہوسکے تومجبوراًانہیںعقل کے گھوڑے دوڑانے پڑرہے ہیں ۔ فی الوقت تویہی بات ذہن کولگتی ہے کہ امریکہ کے بڑے حکومتی اذہان کسی گہری سازش کے ذریعے کوئی بڑاکھیل کھیلنے کی کوشش کرینگے۔اس کاایک اشارہ سابق امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجرکی گفتگوسے ملتاہے ، ہنری کسنجر وہی موصوف ہیںجنہوںنے ذوالفقارعلی بھٹو کوعبرت کانشان بنانے کی دھمکی دی تھی اورپھرگڑھی خدابخش کی مٹی نے ایک عظیم لیڈرکونگل لیا۔ اب پھروہی ہنری کسنجر گویا ہوئے ہیںکہ” ہم ایک ایسی پاکستانی جمہوری حکومت کوکہاںتک سنبھالادیںجواندرونی بدنظمی اور شدت پسندوںکے ساتھ جنگی کیفیت میںہے ۔“ مزید کہاکہ ” اگرپاکستان کے ٹکڑ ے ہوجائیںاوروہ ایک ناکام ریاست بن جائے توہمیںتمام متاثرہ ممالک جن میںچین ، بھارت اورروس شامل ہیںسے رجوع کرنا پڑے گاکہ وہ اس مسئلے کاکوئی حل نکالیں“ اورکہتے ہیں ” جس ملک کے پاس بے شمارایٹمی ہتھیار ہوں اوروہاں حکومت نہ ہو تویہ بات عالمی برادری کیلئے باعث تشویش ہے ۔“
سابق امریکی وزیرخارجہ پاکستان کوایک عظیم لیڈرسے محروم کرنے کاتجربہ رکھتے ہیںاس کے علاوہ بھی وہ کافی تجربہ کاررہے ہیں لیکن بھٹو کو عبرت کانشان بنانے کاتجربہ کم ازکم جنوبی ایشیایاتیسری دنیاکیلئے بہت بڑاگھائوہے ۔ بہرحال اب یہ موصوف نئے راستوں اور منزلوںکی نشاندہی کررہے ہیں تواسے معمولی سی بات نہ سمجھاجائے۔اس کوزیادہ سے زیادہ سنجیدگی سے لیاجاناچاہیے تاکہ ہم معاملات کوسنبھالنے میں کامیاب ہوسکیں۔یہ توطے ہے کہ امریکی اب موجودہ سیاسی سیٹ کوآگے چلنے نہیںدیناچاہتے اوراس کیلئے وہ کوئی ایسا قابل قبول طریقہ ڈھونڈنے میںلگ گئے ہیں جس پر مہذب دنیا کی طرف سے کم سے کم تنقید کاسامنا کرنا پڑے اوروہ کوئی معقول جوازپیش کرسکیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرہ اس صورت میںہوگاجب وہ کوئی معقول جوازتلاش کرنے میںناکام ہوگئے تووہ پاکستان میںایک بڑا کھیل کھیلنے کی کوشش کرینگے، آپ دیکھیں لیںکہ بلوچستان نئی کروٹ لے رہاہے ، اورقبائلی علاقہ جات میںجوآگ بھڑک رہی اس کے پیچھے جہاںکچھ اپنے نادانوں کی کارستانی ہے، وہیں امریکہ ، بھارت اوراسرائیل کے ساتھ ساتھ اب روس بھی اپناحصہ ڈالنے کیلئے حرکت میں آچکا ہے ۔یہ بحث پرانی ہوچکی ہے کہ روس گرم پانیوں تک پہنچناچاہتاتھایانہیںلیکن یہ بات تو طے ہوچکی ہے کہ بڑی طاقتوںکے درمیان گوادر پورٹ اورگریٹر بلوچستان کیلئے جنگ کاآغازہوچکا ہے اور یہ آغاز پاکستان کے مستقبل کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا ۔ اب بات گریٹرپختونستان سے گریٹر بلوچستان تک پہنچتی جارہی ہے۔
موجودہ حالات میںہمیں یقین ہے کہ امریکہ کسی پرویز مشرف کی تلاش میںہے لیکن اس بارانہیںکوئی پرویزمشرف ملنے والانہیںہے ۔اوریقیناآخری بار ہمیںیہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان اورپاکستانی اس آگ کے دریا کوعبور کریں گے یاڈوبیں گے ۔اورایک بارپھرہمیں یقین ہے کہ ہم دریاپارکرجائیںگے۔بس اجتماعی ہمت اورحوصلے کی ضرورت ہے ۔ہم اس بارایوب ویحییٰ ،ضیاءومشرف سمیت کوئی میرجعفر کامیاب نہیںہوسکے گااورتمام میرجعفرں اور میرصادقوںکوہم یہ سوچنے پرمجبورکردینگے کہ اب ان کاکوئی وارنہیںچلے گا۔ یاد رکھیںکہ جب ہم پاراتریںگے توپھران ڈکٹیٹروں کی حالت یہ ہوگی کہ
جڑوںمیںپی©ڑکی تیزاب ڈالنے والا
پڑاہے سوچ میںیہ پھول پھل گیاکیسے؟
ہم یہ دن ضروردیکھیںگے۔بس آخری باریہ فیصلہ کریںگے کہ آگ کادریاپارکرناہے اورپاراترنے تک ایک دوسرے کاہاتھ نہیںچھوڑنا۔ سولہ کروڑ پاکستانیوںکے بتیس کروڑہاتھ یقیناہرطوفان کوروک سکتے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment

aa